حدیث

نبی ﷺ نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا تو آپ ﷺ کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا، آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتعدد روایات کے ساتھ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: حَضَرَتِ الصلاةُ فقامَ مَنْ كان قريبَ الدارِ إلى أَهْلِهِ، وبَقِيَ قَوْمٌ، فأُتِيَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَصَغُرَ المِخْضَبُ أَنْ يَبْسُطَ فيهِ كَفَّهُ، فتَوَضَّأَ القومُ كلهم. قالوا: كم كنتم؟ قال: ثمانينَ وزيادةً. وفي رواية: أَنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم دعا بإناءٍ من مَاءٍ، فأُتِيَ بقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فيهِ شَيْءٌ من ماءٍ، فوضعَ أَصَابِعَهُ فيهِ، قال أنس: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إلى الماءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ ما بَيْنَ السبعينَ إلى الثمانينَ.

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) نماز کا وقت ہو گیا، تو جس شخص کا مکان قریب ہی تھا وہ وضو کرنے اپنے گھر چلا گیا اور کچھ لوگ رہ گئے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس پتھر کا ایک لگن لایا گیا جس میں کچھ پانی تھا اور وہ اتنا چھوٹا تھا کہ آپ ﷺ اس میں اپنی ہتھیلی نہیں پھیلا سکتے تھے۔ (مگر) سب لوگوں نے اس برتن کے پانی سے وضو کر لیا۔ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کتنے افراد تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اسّی (80) افراد سے کچھ زیادہ ہی تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا تو آپ ﷺ کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا، آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں پانی کی طرف دیکھنے لگا۔ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اندازے کے مطابق (اس ایک پیالہ پانی سے) جن لوگوں نے وضو کیا، وہ ستّر سے اسّی افراد تک تھے۔

تشریح

انس رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ: نماز کا وقت ہوگیا یعنی مدینہ میں صحابہ نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا۔ جس کا گھر مسجد سے قریب تھا وہ چلا گیا یعنی جن کے گھر وہاں سے قریب ہی تھے وہ وضو کرنے کے لیے گھر چلے گئے۔ ”کچھ لوگ باقی رہے“ یعنی وہ لوگ نبی ﷺ کے پاس رہ گیے جن کے گھر دور تھے۔ نبی ﷺ کے پاس پتھر کا ایک چھوٹا سا برتن لایا گیا جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ بعض روایات میں اس برتن کو '”رَحرَاح“' کی صفت سے موصوف کیا گیا ہے۔ (یعنی چوڑے منہ والا ایسا برتن جس کا پیندا زیادہ گہرا نہ ہو)۔ اس چھوٹے سے برتن میں جب آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی کو پھیلانا چاہا تو یہ تنگ پڑ رہا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ ہم نے پوچھا کہ آپ کتنے افراد تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسّی سے کچھ اوپر۔

تشریح: العربية

يقول أنس رضي الله عنه : "حضرت الصلاة" أي بينما كان الصحابة مع النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة حضرت صلاة العصر. "فقام من كان قريباً من المسجد" أي: فذهب الذين دارهم قريبة من ذلك المكان إلى الدار ليتوضؤوا منها. "وبقي قوم" أي: وبقي الذين دارهم بعيدة مع النبي صلى الله عليه وسلم . "فأتي النبي صلى الله عليه وسلم بمخضب من حجارة فيه ماء" أي: فأحضر إلى النبي صلى الله عليه وسلم إناء صغير من حجر فيه قليل من الماء، وجاء في بعض الروايات وصفه بالرحراح. "فصغر المخضب أن يبسط كفه فيه" أي فضاق ذلك الإِناء الصغير على كف رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أراد أن يمدها في وسطه. قال أنس: "فتوضأ القوم كلهم، قلنا كم كنتم؟ قال: ثمانين وزيادة" أي: ثمانين فأكثر.

  • جواز استعمال أواني الحجر للوضوء وغيره.
  • معجزة النبي -صلى الله عليه وسلم- بتكثير الماء ببركته ونبعه من بين أصابعه.
  • الوضوء غير مقدر بقدر من الماء معين؛ لأن الصحابة اغترفوا من ذلك القدح بغير تقدير؛ لأن الماء النابع لم يكن قدره معلوما لهم فدل على عدم التقدير، لكن بشرط عدم الإسراف والتبذير.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید