حدیث

میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ میری ازار لٹک رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! اپنی ازار اونچی کرو“ میں نے اسے اوپر اٹھا لیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اٹھاؤ“ میں نے اور اٹھائی، میں اپنی ازار اٹھاتا اور اس کا خیال کرتا رہا یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے کہا کہاں تک اٹھائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدھی پنڈلیوں تک“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابنِ عمرَ رضي الله عنهما ، قال: مَرَرْتُ على رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وفي إِزَارِي اسْتِرْخَاءٌ، فقال: «يا عبدَ اللهِ، ارْفَعْ إِزَارَكَ» فَرَفَعْتُهُ ثم قال: «زِدْ» فَزِدْتُ، فما زِلْتُ أَتَحَرَّاهَا بَعْدُ، فقال بعضُ القَوْمِ: إلى أين؟ فقال: إلى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ.

ترجمہ

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ میری ازار لٹک رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! اپنی ازار اونچی کرو“ میں نے اسے اوپر اٹھا لیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اٹھاؤ“ میں نے اور اٹھائی، میں اپنی ازار اٹھاتا اور اس کا خیال کرتا رہا یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے کہا کہاں تک اٹھائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدھی پنڈلیوں تک“۔

تشریح

ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے پاس سے گزرا، میرا ازار لٹک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے عبد اللہ! اپنی ازار اونچی کرو، تو میں نے ٹخنوں تک یا اس کے قریب قریب اپنی ازار اونچی کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اور اونچی کرو، اس لیے کہ یہ زیادہ پاکیزگی اور طہارت کا باعث ہے۔ میں نے اور اونچی کرلی، یہاں تک کہ آدھی پنڈلیوں تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد میں ہمیشہ آپ ﷺ کی سنت اور آپ کی اتباع میں اس کا اہتمام کرتا تھا۔ لوگوں میں سے کسی نے پوچھا کہ کہاں تک اٹھانے کا حکم ہے؟ فرمایا آدھی پنڈلیوں تک۔

تشریح: العربية

عن ابن عمر رضي الله عنه قال: مررت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي إزاري إسبال، فقال: يا عبد الله ارفع إزارك، فرفعته إلى الكعبين أو قريب منهما، ثم قال: زِد في الرفع؛ لكونه أطيب وأطهر، فزدت حتى بلغت به أنصاف الساقين، وما زلت أقصدها بعد ذلك؛ اعتناء بالسنة وملازمة للاتباع، فقال بعض القوم: إلى أين كان انتهاء الرفع المأمور به، قال: إلى أنصاف الساقين.

  • فضل عبد الله بن عمر -رضي الله عنهما-، ومزيد اعتنائه بالسنة، وملازمته التأسي برسول الله -صلى الله عليه وسلم-.
  • الأفضل في الإزار أن يكون إلى نصف الساق.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید