حدیث

”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی عافیت طلب کرتا ہوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود والنسائي وابن ماجه وأحمد

عربی متن

عَنِ ابنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ، حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي -أَو: عَوْرَاتِي- وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي».

ترجمہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "اللہ کے نبی ﷺ جب صبح اور شام کرتے، تو ان دعاؤں کو پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے : ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا، اہل و عیال اور مال میں عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میری شرم گاہ کی ستر پوشی فرما، مجھے خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے اور اوپر سے۔ میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے اچک لیا جاؤں۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ صبح شام ان دعاؤں کو کبھی نہ چھوڑتے تھے : (اللهم إني أسألُكَ العافيةَ) اے اللہ! میں تجھ سے، برائیوں، بلاؤں، دنیوی مشکلات، شہوتوں اور دینی فتنوں سے تیری عافیت اور سلامتی کا سوالى ہوں۔ (في الدنيا والآخرة) دنیوی ہوں کہ اخروی، جلدى آنے والی ہوں یا تاخیر سے۔ (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي) اے اللہ! میں تجھ سے عفو و درگزر اور عیوب سے سلامتی کی دعا کرتا ہوں، خواہ عیوب دین سے متعلق ہوں، جیسے شرک، بدعت اور دیگر معاصی، یا دنیا سے متعلق ہوں‘ جیسے مصائب، اذیتيں اور شرور وفتن، یا اہل و عیال سے متعلق ہوں، جیسے بیوی بچوں اور رشتے داروں سے متعلق، یا پھر مال اور عمل سے سے متعلق ہوں۔ "اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي -أَو: عَوْرَاتِي- وَآمِنْ رَوْعَاتِي"۔ اے اللہ! میرے عیوب، کمیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈال دے اور میرے گناہ مٹا دے۔ مجھے خوف و خطر سے محفوظ رکھ۔ "اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي"۔ اے اللہ میری حفاظت فرما اور تمام تکلیف دہ چیزوں اور بلاؤں و مصیبتوں کو مجھ سے دور رکھ۔ تمام جہات سے میری حفاظت فرما۔ کیوں کہ مصیبتیں اور آفتیں مذکورہ جہات ہی سے آتی ہيں۔ "وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي"۔ میں اس بات سے تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ نیچے کى جانب سے اچانک میرا مؤاخذہ ہو جائے اورغفلت کی حالت میں ہلاک ہو جاؤں پھر زمین میں دھنسا دیا جاؤں۔

فوائد

  • رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے ان کلمات کی پابندی کرنی چاہیے۔
  • جس طرح انسان کو دین کے معاملے میں اللہ سے عافیت کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح دنیا کے معاملے میں بھی عافیت کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
  • طیبی کہتے ہيں : چھ جہتوں کا ذکر کیا گیا ہے، کیوں کہ آفتیں انھیں جہتوں سے آتی ہیں۔ نیچے کی جہت کے بارے میں مبالغہ سے کام اس لیے لیا گیا ہے کہ اس جانب سے آنے والی آفت بدترین ہوا کرتی ہے۔
  • ان اذکار کو پڑھنے کا افضل وقت دن کے پہلے حصے میں فجر طلوع ہونے سے لےکر سورج طلوع ہونے تک ہے اور دن کے آخری حصے میں عصر کے بعد سے لے کر سورج ڈوبنے تک ہے۔ اگر کوئی بعد میں بھی پڑھتا ہے، یعنی صبح سورج بلند ہونے کے بعد پڑھتا ہے، تب بھی کافی ہے۔ ظہر کے بعد پڑھتا ہے، تب بھی کافی ہے اور مغرب کے بعد پڑھتا ہے، تب بھی کافی ہے۔
  • جب کوئى دلیل کسى ذکر کے تعلق سے یہ ہو کہ اس کا وقت رات ہی میں معین ہے، جیسے سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتوں کو پڑھنا، تو ایسے ذکر کو رات میں سورج ڈوبنے کے بعد ہی پڑھا جائے گا۔
تشریح: العربية

لم يَكُن النبيُّ صلى الله عليه وسلم يتركُ هؤلاء الدَّعَوات حين يُمسي وحين يُصبح: (اللهم إني أسألُكَ العافيةَ)، والسلامة من الأسقامَ والبلايا والشدائد الدنيوية، والشهوات والفتن الدينية (في الدنيا والآخرة) العاجلة والآجلة. (اللهمَّ إني أسأَلُكَ العفو) ومَحْوَ الذنوب والتَّجَاوزَ عنها، (والعافيةَ) والسلامة من العيوب، (في دِيني) من الشرك والبدع والمعاصي، (ودنياي) من المصائب والأذى والشرور، (وأهلِي) زوجاتي وأولادي وقرابتي، (ومالي) وأموالي وعملي. (اللهم استرْ عَوراتي) وما فيَّ من العيوب والخَلَل والتقصير وامْحُ ذنوبي، (وآمِن رَوْعاتي) وفَزَعي وخوفي. (اللهم احفظْني) وادفع البلاء عني من المؤذِيات والبلاء، (من بين يديَّ ومِن خلفي، وعن يميني وعن شمالي، ومن فوقي) حيث سألَ أنْ يحفظَه الله من جميع الجهات؛ لأن البلايا والآفات إنما تَلْحَق الإنسانَ وتُقبِلُ إليه من إحدى هذه الجهات. (وأعوذُ بعظمتك أن أُغْتَال) وأؤاخَذ بَغْتَة، وأَهْلِكَ غفلةً (من تحتي) فأهلك بالخَسْف.

  • المحافظة على هذه الكلمات اقتداءً بالرسول صلى الله عليه وسلم.
  • الإنسان كما هو مأمور بسؤال الله العافية في الدين كذلك مأمور بسؤالها في الدنيا.
  • قال الطيبي: عَمَّ الجهاتَ الست؛ لأن الآفات منها، وبالَغَ فِي جهة السُّفْلِ لرَدَاءة الآفة منها.
  • الأفضل في قراءة الأذكار، في الصباح: من طلوع الفجر إلى طلوع الشمس في أول النَّهار، ومن بعد العصر إلى ما قبل الغروب، فإن قالها بعد ذلك يعني: قالها في الصباح بعد ارتفاع الضُّحى أجزأه، وإن قالها بعد الظُّهر أجزأه، وإن قالها بعد المغرب أجزأه، فذلك وقتٌ للذكر.
  • ما دَلَّ الدليل على كون الذِّكْر له وقت مُعَيّن في الليل كقراءة آخر آيتين من سورة البقرة فإنها تكون ليلًا بعد غروب الشمس.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید