ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ».
ترجمہ
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو دعائيں کیا کرتے تھے، ان میں سے ایک یہ ہے: "اے اللہ! میں تیری نعمت کے زائل ہونے سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پھر جانے سے، تیرى ناگہانی گرفت سے، اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے تيری پناہ مانگتا ہوں۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چار چيزوں سے پناہ مانگی ہے : پہلی : "اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ۔" یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیری دینی اور دنیوی نعمت کے زائل ہونے سے۔ تجھ سے دعا ہے کہ میں اسلام پر ثابت قدم رہوں اور ایسے گناہوں میں ملوث ہونے سے دور رہوں، جو نعمتوں کو زائل کر دیتے ہيں۔ دوسری : "وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ"۔ اور اس بات سے کہ تیری جانب سے ملی ہوئی عافیت ابتلا و آزمائش میں بدل جائے۔ دعا ہے کہ مجھے دائمی عافیت اور دکھوں اور بیماریوں سے سلامتی عطا فرما۔ تیسری : "وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ۔" اس بات سے کہ اچانک تیری بلا یا مصیبت آن پڑے۔ کیوں کہ مصیبت اور سزا جب اچانک آن پڑتی ہے، تو انسان کو توبہ اور اپنی اصلاح کا موقع نہيں مل پاتا۔ لہذا مصیبت زیادہ بڑی اور زیادہ سخت ہو جاتی ہے۔ چوتھی : "وَجَمِيعِ سَخَطِكَ"۔ تیری ناراضگی کا سبب بننے والی تمام چيزوں سے۔ کیوں کہ جس سے تو ناراض ہوگیا، اس کی قسمت پھوٹ گئی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے لفظ "جمیع" کا استعمال اس لیے کیا ہے، تاکہ اس کی ناراضگی کا سبب بننے والے تمام اقوال، اعمال اور اعتقادات شامل ہو جائيں۔
فوائد
- نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے محتاج تھے۔
- یہ مبارک استعاذہ، اللہ کی نعمتوں کے شکر اور گناہوں میں پڑنے سے حفاظت پر مشتمل ہے، کیوں کہ گناہوں سے نعمتیں چھن جاتی ہیں۔
- اللہ کی ناراضگی کی جگہوں سے دور رہنے کا اہتمام۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اچانک مصیبت آن پڑنے سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔ کیوں کہ اللہ جب کسی بندے سے انتقام لینا چاہتا ہے، تو اس پر ایسی مصیبت ڈال دیتا ہے، جسے وہ اکیلے تو کجا ساری مخلوقات مل کر بھی ہٹا نہیں سکتیں۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کی دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔ کیوں کہ اللہ کی عافیت نصیب ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس دونوں جہانوں کی خیر موجود ہے اور اس کے پھر جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے سامنے دونوں جہانوں کا شر باہیں پھیلائے کھڑا ہے۔ دراصل عافیت ہی سے دین و دنیا کی درستگی ہے۔
تشریح: العربية
اسْتَعاذَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم مِن أربعةِ أمور: الأول: (اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك) الدينيّة والدنيويّة وأنْ أَثْبُتَ على الإسلام، وأبْتَعِدَ عن الوقوع في المعاصي التي تُزيل النِّعَم. الثاني: (وتَحَوُّل عافيتك) بتبديلِها إلى البلاء؛ فأسألك دوام العافية، والسلامة من الآلام والأسقام. الثالث: (وفجأة نقمتك) من بلاء أو مصيبة، فالنقمة والعقوبة إذا جاءت فجأة وبَغْتَة، لم يكن هناك زمانٌ للتوبة والاستدراك، وكان المُصاب بها أعظمَ وأشدَّ. الرابع: (وجميع سخطك) والأسباب المُوجِبَة لغضبك؛ فإنَّ مَن سَخِطْتَ عليه فَقَد خاب وخَسِر. وقد أتى صلى الله عليه وسلم بلفظ الجَمْع؛ لِتشمَلَ جميعَ أسبابِ سَخَطِهِ سبحانه وتعالى من الأقوال والأعمال والاعتقادات.
- افتقار النبيِّ صلى الله عليه وسلم إلى الله تعالى.
- تضمّنت هذه الاستعاذة المباركة: التوفيق لشكر النِّعم، والحفظ من الوقوع في المعاصي؛ لأنها تزيل النعم.
- الحرص عن الابتعاد عن مواضع سَخَطِ الله تعالى.
- استعاذ صلى الله عليه وسلم من فجأة نقمة الله تعالى؛ لأنه إذا انتقم من العبد فقد أَحَلَّ به من البلاء ما لا يَقدِر على دفعه، ولا يُستدفع بسائر المخلوقين، وإن اجتمعوا جميعًا.
- استعاذ صلى الله عليه وسلم من تحول عافيته سبحانه؛ لأنه إذا كان قد اختصَّه الله بعافيته، فقد ظفر بخير الدارين، فإن تحولت عنه فقد أصيب بشر الدارين، فإن العافية بها صلاح الدِّين والدنيا.