حدیث

اللہ کے نبی ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ”رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ“۔ (اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا )۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ».

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : "اللہ کے نبی ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ”رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ“۔ (اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا )۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اکثر جامع ترین الفاظ میں دعا کیا کرتے تھے۔ اس طرح کی ایک دعا ہے : "اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔" اس دعا میں جہاں دنیا کی بھلائی جیسے وافر مقدار میں خوش گوار حلال روزی، نیک بیوی، آنکھ کی ٹھنڈک بننے والی اولاد، راحت، نفع بخش علم اور عمل صالح وغیرہ جیسی محبوب اور مباح چيزیں شامل ہیں، وہیں آخرت کی بھلائی جیسے قبر، حشر کے میدان اور جہنم کی سزاؤں سے سلامتی، اللہ کی خوش نودی سے سرفرازی، دائمی نعمتوں کا حصول اور رحمت والے رب کی قربت جیسی جيزیں بھی شامل ہیں۔

فوائد

  • دعا کرنے کے لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جامع ترین دعاؤں کا انتخاب کرنا مستحب ہے۔
  • کامل ترین طریقہ یہ ہے کہ انسان دعا کرتے وقت دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگے۔
تشریح: العربية

كانَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم يُكْثِرُ الدعاءَ بِجَوامِعِ الدعاء، ومنها: "اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار"، فهو يشتمل على حسنة الدنيا من رزق هنيءٍ واسع حلال، وزوجة صالحة، وولدٍ تقَرُّ به العين، وراحة، وعلمٍ نافع، وعمل صالح، ونحو ذلك من المطالب المحبوبة والمباحة، وحسنة الآخرة من السلامة من العقوبات في القبر والموقف والنار، وحصول رضا الله، والفوز بالنعيم المُقيم، والقرب من الرب الرحيم.

  • استحباب الدعاء بالأدعية الجامعة، تأسيًا بالنبي صلى الله عليه وسلم.
  • الأكمل أنْ يَجمعَ الإنسانُ في دعائه بين خير الدنيا والآخرة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید