ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”صدقہ مال کو گھٹاتا نہيں ہے، بندہ کے عفو و درگزر سے کام لینے سے اللہ اس کی عزت کو مزید بڑھاتا ہے اور جو آدمی اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالی اسے بلندیوں سے نوازتا ہے“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ صدقہ مال کو گھٹاتا نہيں ہے، بلکہ اسے بلا و مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے اور بدلے میں صدقہ کرنے والے کو بڑی بھلائی عطا کرتا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو مال میں اضافہ ہوا، کمی نہیں۔ انتقام لینے اور گرفت کرنے کی طاقت ہونے کے باوجود عفو و درگزر سے کام لینے سے انسان کے طاقت و عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے تواضع اور انکساری کا رویہ اختیار کرتا ہے، اس میں کسی کا خوف، کسی کو خوش کرنے اور کسی سے کسی منفعت کا حصول جیسی باتیں پیش نظر نہيں ہوتیں، تو بدلے میں اللہ تعالی اسے بلندی اور عزت عطا کرتا ہے۔
فوائد
- خیر وبھلائی اور کامیابی وکامرانی شریعت کی پیروی اور نیکی کے کام کرنے میں ہے، اگرچہ کچھ لوگ اس کے برخلاف سوچیں۔
تشریح: العربية
يُبَيِّنُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ الصدقةَ لا تُنقِصُ المالَ، بل تَدْفَعُ عنه الآفات، ويُعَوِّض اللهُ صاحبَها الخيرَ العظيم، فتكون زيادةً لا نقصًا. وما زاد العفوُ مع القدرة على الانتقام أو المؤاخذة صاحبَه إلا قوةً وعزةً. وما تواضع وتَذَلَّل أحدٌ لوجه الله، لا خوفًا من أحد، ولا مداراة له، ولا طلبًا لمنفعة منه، إلا كان جزاؤه العُلُوَّ والشرفَ.
- الخير والفلاح في امتثال الشريعة وفعل الخير وإن ظن بعض الناس أنه بخلاف ذلك.