حدیث

ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو گفتگو کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ہنسائے۔ اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن معاوية بن حيدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ويل للذي يحدث فيكذب؛ ليضحك به القوم، ويل له، ثم ويل له».

ترجمہ

معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو گفتگو کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ہنسائے۔ اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے“۔

تشریح

اس حدیث میں جھوٹ سے سختی سے ڈرایا گیا ہے اور اس شخص کے لئے ہلاکت کی وعید بیان کی گئی ہے جو از راہِ مزاح اور محض لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔ یہ بہت ہی بری بات ہے اور سختی کے ساتھ حرام ہے۔ یہ برے اخلاق میں سے ہے جس سے مومن کو اپنا دامن بچا کر رکھنا چاہیے اور اس سے دور رہنا چاہیے اور اپنی زبان کو ہر حال میں جھوٹ سے پاک رکھنا چاہیے، ماسوا ان صورتوں کے جن میں شارع کی طرف سے جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جس طرح از راہِ مذاق جھوٹ بولنا حرام ہے، اسی طرح سننے والوں کے لیے اس کا سننا بھی حرام ہے اگر انھیں اس کے جھوٹ ہونے کا علم ہوجائے، بلکہ ان پر واجب ہوجاتا ہے کہ وہ اس کا انکار کریں۔

تشریح: العربية

في الحديث تحذير شديد من الكذب ووعيد بالهلاك لمن يتعاطى الكذب من أجل المزاح وإضحاك الناس، فكان من أقبح القبائح، وتغليظ تحريمه، فهذا من الأخلاق السيئة التي يجب على المؤمن أن يتنزه عنها، وأن يبتعد عنها، ويطهر لسانه من الكذب في كل حال من الأحوال، إلا ما أذن الشارع فيه. وكما يحرم التكلم بالكذب لأجل المزاح فكذلك يحرم على السامعين سماعه إذا علموه كذباً، بل يجب عليهم إنكاره.

  • الوعيد بالهلاك لمن يحدث الناس فيكذب عليهم.
  • يفهم من الحديث أن التفكه بالكلام والتنكيت إذا كان بحق وصدق فلا بأس به ولا سيما مع عدم الإكثار من ذلك، وقد كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يمزح ولا يقول إلا حقًّا -صلى الله عليه وسلم-.
  • قوله في الحديث "ويل له ثم ويل له" إيذان فيه بشدة هلكته وعِظَمِ الأمر الذي وقع فيه.
  • أن الكذب وحده رأس كل مذموم، فإذا انضم إليه الضحك الذي يميت القلب ويجلب النسيان ويورث الرعونة كان أعظم إثماً.
  • أن الكذب إن اجتمع معه الضحك كان عذابه شديدًا فكذلك إن اجتمع معه أكلٌ للأموال بالباطل.
  • يدخل في هذا الحديث أصحاب التمثيليات الذين يضحكون الناس بالهزليات، ويأتون بشيء ليس واقعاً، إنما كذبٌ لأجل إضحاك الناس.
  • يدخل في الحديث أيضا ذكر أشياء لا حقيقة لها وتنسب لشخص (ما يسمى هذه الأيام بـالنكت).

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید