حدیث

نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو کسی کی تعریف کرتے سنا، وہ اس کی تعریف میں مبالغہ کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا تم نے ہلاک کردیا یا فرمایا تم نے اس آدمی کی کمر توڑدی ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي موسى الأشعري - رضي الله عنه- قال: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يُثْنِي على رجل ويُطْرِيهِ في المِدْحَةِ، فقال: «أَهْلَكْتُمْ -أو قَطَعْتُمْ- ظَهْرَ الرجل».

ترجمہ

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو کسی کی تعریف کرتے سنا، وہ اس کی تعریف میں مبالغہ کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے تو اُسے ہلاک کردیا“ یا فرمایا: ”تم نے اس آدمی کی کمر توڑدی ہے“۔

تشریح

نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو سنا جو کسی کی تعریف کررہا تھا اور اس کی تعریف میں بہت زیادہ مبالغہ کررہا تھا جو اس کی صفات کا حصہ نہیں تھی، آپ ﷺ نے اسے منع کیا اور فرمایا یہ اس کی ہلاکت کا باعث ہے، اس لیے کہ اس تعریف کی وجہ سے اس میں تکبّر اور بڑکپن پیدا ہوتا ہے۔

تشریح: العربية

سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلًا يصف رجلًا بالخير، ويبالغ جدًّا في وصفه بما ليس فيه من الصفات الحميدة، فنهاه النبي صلى الله عليه وسلم ، وأخبر أن هذا قد يكون سببا في هلكته؛ لأن ذلك يوجب أن هذا الممدوح يترفع ويتعالى.

  • المدح في الوجه مظنة الاغترار بالنفس والوقوع في العجب، وهذه الصفات مهلكة لدين العبد.
  • الحث على القصد وعدم مدح الشخص الشخص في وجهه إلا بالاعتدلال، وعدم التملق وتحري الحق.
  • تفقد أحوال الناس، وتصحيح الأخطاء، وبيان الصواب في المدح.
  • اتباع هدي النبي -صلى الله عليه وسلم- في مدح الشخص.
  • استشعار أمانة الكلمة وترك مدح غير المستحقين له.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید