حدیث

ایک مرتبہ ایک آدمی ایک لق و دق صحرا سے گزر رہا تھا کہ اس نے بادل سے ایک آواز سنی

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم قال: "بينما رجلٌ يمشي بفلاةٍ من الأرضِ، فسمع صوتًا في سحابةٍ: اسقِ حديقةَ فلانٍ. فتنحَّى ذلك السحابُ، فأفرغ ماءَه في حرةٍ، فإذا شَرْجَةٌ من تلك الشِّرَاجِ قد استوعبتْ ذلك الماءَ كلَّه، فتتَّبع الماءَ، فإذا رجلٌ قائمٌ في حديقته يُحوِّلُ الماءَ بمسحاته، فقال له: يا عبدَ اللهِ؛ ما اسمُك؟، قال: فلانٌ للاسم الذي سمعَ في السحابة، فقال له: يا عبدَ اللهِ؛ لم تسألني عن اسمي؟، فقال: إني سمعت صوتًا في السحابِ الذي هذا ماؤه، يقول: اسق حديقةَ فلانٍ لاسمِك، فما تصنعُ فيها؟، قال: أما إذ قُلتَ هذا فإني أنظرُ إلى ما يخرُجُ منها، فأتصدَّقُ بثُلثِه، وآكُلُ أنا وعيالي ثُلثًا، وأرُدُّ فيها ثُلثه".

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ایک مرتبہ ایک آدمی ایک لق و دق صحرا سے گزر رہا تھا کہ اس نے بادل سے ایک آواز سنی: فلاں شخص کے باغ کو سیراب کر دو۔ پس بادل کا ایک ٹکڑا وہاں سے الگ ہوا اور ایک پتھریلی زمین پر پانی برسایا۔ پھر ایک نالی میں ساری نالیوں کا پانی جمع ہوکر آگے بڑھنے لگا۔ وہ صحرا نَورد اس پانی کے ساتھ چلتا رہا، تا آں کہ اس نے ایک آدمی کو دیکھا، جو اپنے باغ میں کھڑا اپنے کدال سے پانی ادھر اُدھر پھیر رہا تھا۔ اس نے اس باغبان سے کہا: اے اللہ کے بندے! تیرا نام کیا ہے؟ اس نے اپنا نام بتلایا، تو وہ وہی نام تھا، جو اس نے بادل سے سنا تھا۔ باغبان نے اس نووارد سے پوچھا: اے اللہ کے بندے! تم میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: بات یہ ہے کہ میں نے اس بدلی میں، جس کا پانی برس کر تیرے باغ میں آیا ہے، تیرا نام سنا تھا؛ کوئی کہہ رہا تھا: فلاں کے باغ کو سیراب کرو۔ اور وہ تیرا یہی نام تھا، جو تونے مجھے بتلایا ہے۔ ذرا مجھے بتلا کہ تو کیا عمل کرتا ہے؟ اس نے کہا: تو مجھ سے پوچھ ہی ڈالا، تو سن! میرے اس باغ سے جتنی پیداوار ہوتی ہے، میں اس کے تین حصے کرلیتا ہوں؛ ایک حصہ صدقہ کردیتا ہوں، ایک حصہ میں اور میرے بچے کھا لیتے ہیں اور تیسرا حصہ میں پھر (اگلی فصل تیار کرنے کے لیے) باغ میں لگا دیتا ہوں“۔

تشریح

ایک مرتبہ ایک آدمی ایک وسیع صحرا میں تھا کہ اس نے ایک بادل سے ایک آواز سنی: فلاں کے باغ کو سیراب کردو۔ پس بادل کا ایک ٹکڑا وہاں سے اپنے مقصد کے لیے الگ ہوا اور ایک کالے پتھروں والی زمین پر پانی برسایا۔ پھر ایک نالی میں ساری نالیوں کا پانی جمع ہوکرآگے بڑھنے لگا۔ وہ صحرا نَورد پانی کے پیچھے چلتا رہا۔ اس نے ایک آدمی دیکھا جو اپنے باغ میں کھڑا اپنی کدال سے پانی ادھر اُدھر پھیر رہا تھا۔ اس نے اس باغبان سے کہا: اے اللہ کے بندے! تیرا نام کیا ہے؟ اس نے اپنا نام بتلایا، تو وہ وہی نام تھا، جو اس نے بادل سے سنا تھا۔ باغبان نے اس نووارد سے پوچھا: اے اللہ کے بندے! تم میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: میں نے اس بدلی میں، جس کا پانی برس کر تیرے باغ میں آیا ہے،تیرا نام سنا تھا؛ کوئی کہہ رہا تھا: فلاں کے باغ کو سیراب کردو۔ وہ در اصل تیرا یہی نام تھا۔ اب ذرا مجھے بتلا کہ تو کون سا خیر و بھلائی والا عمل کرتا ہے، جس کی بنا پر اس فضل و کرامت کے مستحق قرار پائے؟ اس نے کہا: تو مجھ سے پوچھ ہی ڈالا تو سن! میرے اس باغ سے جتنی پیداواراور پھل ہوتا ہے، میں اس کے تین حصے کرلیتا ہوں؛ ایک حصہ صدقہ کردیتا ہوں، ایک حصہ میں اور میرے بچے کھا لیتے ہیں، اور ایک حصہ باغ کی زراعت و آبادکاری میں لگا دیتا ہوں۔

تشریح: العربية

بينا رجل بصحراء واسعة من الأرض، فسمع صوتًا في سحابة يقول: اسق بستان فلان، فابتعد ذلك السحاب عن مقصده، فأفرغ ماءه في أرض ذات حجارة سود، فإذا مسيل من تلك المسايل قد استوعب الماء كله، فتتبع الرجل الماء، فوجد رجلا قائما في حديقته يحول الماء من مكان إلى مكان من حديقته بمسحاته، فقال له: يا عبد الله ما اسمك؟ قال: فلان - للاسم الذي سمع في السحابة - فقال له: يا عبد الله لم تسألني عن اسمي؟ فقال: إني سمعت صوتا في السحاب الذي هذا ماؤه يقول: اسق حديقة فلان، لاسمك، فما تصنع في حديقتك من الخير حتى تستحق هذه الكرامة-، قال: أما إذ قلت هذا فإني أنظر إلى ما يخرج منها من زرع الحديقة وثمرها، فأتصدق بثلثه، وآكل أنا وعيالي ثلثًا، وأصرف في الحديقة للزراعة والعمارة ثلثه.

  • فضل الصدقة والإحسان إلى المساكين وأبناء السبيل.
  • الصدقة تنتج بالبركة والمعونة من الله -تعالى-.
  • فضل أكل الإنسان من كسبه والإنفاق على العيال.
  • من الملائكة من هو موكل بالأرزاق أو السحاب.
  • إثبات كرامات الأولياء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید