ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحيحمتفق عليه
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «قَالَ اللهُ: أَنْفِقْ يَا ابْنَ آدَمَ أُنْفِقْ عَلَيْكَ».
ترجمہ
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالی نے فرمایا: ”اے ابن آدم ! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیان فرما رہے ہيں کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمايا: اے آدم کی اولاد! تم ان جگہوں میں خرچ کرو، جہاں خرچ کرنا واجب اور مستحب ہے، میں تم کو کشادگی عطا کروں گا، تمھیں اس کا بدلہ عطا کروں گا اور اس میں تمھارے لیے برکت ڈال دوں گا۔
فوائد
- صدقہ کرنے اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب۔
- نیک کاموں میں خرچ کرنا روزی میں اضافه اور برکت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ بندے کو اس کے خرچ کرنے کا بدلہ عطا کرتا ہے۔
- یہ حدیث ان حدیثوں میں سے ہے، جن کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسی حدیث جس کے الفاظ اور معنی دونوں اللہ کی جانب سے ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے اندر قرآن کے وہ خصائص نہيں پائے جاتے، جن کی بنیاد پر اسے ایک الگ امتیاز حاصل ہے۔ مثلا اس کی تلاوت کے ذریعہ اللہ کى عبادت کرنا، اس کى تلاوت کے لیے طہارت حاصل کرنا، اس کا معجزہ ہونا اور اس جیسا کلام پیش کرنے کا چیلنج پیش کیا جانا وغیرہ۔
تشریح: العربية
يَخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ الله تبارك وتعالى قال: أنفق يا ابن آدم -من النفقات الواجبة والمستحبة- أُوَسِّعْ عليك وآتِك عِوَضًا عن ذلك وأباركْ لك فيه.
- الحث على الصدقة والإنفاق في سبيل الله.
- الإنفاق في وجوه الخير من أعظم أسباب البركة في الرزق ومضاعفته، وإخلاف الله على العبد ما أنفقه.
- هذا الحديث مما يرويه النبي صلى الله عليه وسلم عن ربه، ويسمى بالحديث القدسي أو الإلهي، وهو الذي لفظه ومعناه من الله، غير أنه ليست فيه خصائص القرآن التي امتاز بها عما سواه، من التعبد بتلاوته والطهارة له والتحدي والإعجاز وغير ذلك.