حدیث

بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه ، أن أبا هِنْد، حَجَمَ النبي صلى الله عليه وسلم في اليَافُوخ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «يا بَنِي بَيَاضَةَ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ، وَانْكِحُوا إلَيْهِ» وقال: «وإنْ كان في شيء مِمَّا تَدَاوُون به خيرٌ فَالحِجَامة».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوہند نے نبی اکرم ﷺ کے سر کی تالو میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو اور فرمایا اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانے ہی میں ہے۔

تشریح

اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ نبی ﷺ نے ابوہند رضی اللہ عنہ کے ہاں اپنے سر میں پچھنا لگوایا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ (نکاح کے لیے) حسب و نسب اور پیشے میں کفؤ (برابری) کا اعتبار نہیں ہے، کیونکہ نبی ﷺ نے ایک انصاری قبیلہ (عرب کا ازدی قحطانی النسل قبیلہ) کو حکم دیا کہ وہ ابوہند سے (اپنی بچیوں کی) شادی کریں اور ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے انہیں نکاح کا پیغام دیں اور ابوہند بنی بیاضہ کے آزاد کردہ غلاموں میں سے تھے اور وہ غلامی کی وجہ سے لاحق ایذا و مصیبت کے ساتھ پیشہ کے اعتبار سے حجام (پچھنا لگانے کا کام کرتے) تھے اور عرب کے نزدیک پچھنا لگانا بہت حقیر و گھٹیا پیشہ متصور تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے حسب و نسب یا پیشہ میں کفو و برابری کا اعتبار نہ کیا اور دیگر نصوص میں یہ دلیل ملتی ہے کہ دینداری اور اچھے اخلاق میں کفو کو ملحوظ رکھا جائے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے علاج معالجہ میں سب سے بہتر علاج، پچھنا لگانا ہے۔

تشریح: العربية

هذا الحديث فيه أن النبي صلى الله عليه وسلم احتجم عند أبي هند رضي الله عنه في رأسه، وهو يدل على عدم اعتبار الكفاءة لا في النسب، ولا في المهنة؛ وذلك أنَّ النَّبيَّ صلى الله عليه وسلم أمر إحدى قبائل الأنصار، وهم القبيلة القحطانية الأزدية العربية أن يُنكِحُوا أبا هند، وأن يخطبوا إليه بناته، وهو من موالي بني بياضة المذكورين، وكان مع ما مسَّه من الرق حجَّامًا، والحجامة عند العرب صناعة دنيئة، فلم يعتبر الكفاءة في النسب أو المهنة، وتدل النصوص الأخر على اعتبار الكفاءة في الدين والخلق. ثم ذكر أن الحجامة من خير ما يتداوى به المرء.

  • عدم اعتبار الكفاءة للنكاح في النسب أو المهنة، وأن الكفاءة المعتبرة إنما تكون في الدين والخلق.
  • جواز إنكاح الحجام والتزوج من بناته.
  • الحجامة من خير ما يتداوى به المريض.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید