حدیث

نبی ﷺ نے مدینہ اور خیبر کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت فرمائی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحیہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: أقام النبي صلى الله عليه وسلم بين خيبر والمدينة ثلاث ليال يُبْنَى عليه بصفية، فدعوتُ المسلمين إلى وليمته، وما كان فيها من خبز ولا لحم، وما كان فيها إلا أن أمر بلالا بالأنْطَاعِ فَبُسِطَتْ، فألقى عليها التمر والأقِطَ والسَّمْنَ، فقال المسلمون: إحدى أمهات المؤمنين، أو ما مَلَكَتْ يمينه؟ قالوا: إن حَجَبَهَا فهي إحدى أمهات المؤمنين، وإن لم يحجبها فهي مما ملكت يمينه، فلما ارتحل وَطَّأَ لها خَلْفَهُ، ومَدَّ الحِجَابَ.

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مدینہ اور خیبر کے درمیان تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت کی تھی۔ پھر میں نے نبی ﷺ کی طرف سے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ آپ ﷺ کے ولیمے میں نہ روٹی تھی اور نہ گوشت تھا؛ صرف اتنا ہوا کہ آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھا دیا گیا۔ پھراس پر کھجور، پنیر اور گھی (کا ملیدہ) رکھ دیا گیا۔ مسلمان آپس میں کہنے لگے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنین میں سے ہیں یا باندی ہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی ﷺ نے انھیں پردے میں رکھا، تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہوں گی اور اگر آپ نے انھیں پردے میں نہیں رکھا، تو پھر یہ اس بات کی علامت ہو گی کہ وہ باندی ہیں۔ آخر جب کوچ کا وقت ہوا، تو نبی ﷺ نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی اوران کے لیے پردہ پھیلایا۔

تشریح

نبی ﷺ خیبر و مدینے کے درمیان سفر کے لیے نکلے اور ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے بعد ان کے ساتھ تین دن اور رات گزاری۔ نبی ﷺ نے ولیمے کا انتظام کیا۔ آپ نے انس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو کھانے کے لیے بلائیں۔ اس ولیمے میں نبی ﷺ کی خستہ حالی کی وجہ سے گوشت اور روٹی نہیں تھا؛ لیکن چمڑے کا دسترخوان لگایا گیا اور اس پر کھجور و پنیر وغیرہ پھیلایا گیا۔ لوگوں نے اس سے کھایا۔ پھر لوگ آپس میں سوال کرتے ہوئے کہنے لگے: اگر نبی ﷺ نے ان کا پردہ کرایا، تو وہ امہات المومنین میں سے ہیں؛ کیوں کہ ان پر پردہ کرنا فرض تھا اور اگر پردہ نہیں کرایا، تو وہ باندیوں میں سے ایک باندی ہیں۔ پس نبی ﷺ نے ان کے اوپر پردہ ڈالا اور اپنے پیچھے سواری میں ان کے لیے جگہ بنائی۔ اس سے لوگوں کو یقین ہو گیا کہ وہ امہات المومنین میں سے ہیں۔

تشریح: العربية

خرج النبي صلى الله عليه وسلم في سفر بين خيبر والمدينة، وبقي ثلاثة أيام بلياليها مع أم المؤمنين صفية رضي الله عنها حين تزوجها، فأقام -عليه الصلاة والسلام- وليمة لها فأمر أنسًا رضي الله عنه أن يدعو الناس إليها ليأكلوا، ولم يكن فيها لحم ولا خبز لقلة حال رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ولكن بسطت البسط من الجلد فجعل فيها التمر والأقط ونحو ذلك فأكل الناس منها، ثم إنهم تساءلوا فقالوا: إن جعل النبي -عليه الصلاة والسلام- الحجاب على صفية فهي من أمهات المؤمنين لأن الحجاب فرض عليهن، وإن لم يحجبها فهي جارية من الجواري، فلما ضرب عليها الحجاب ووسع لها في المركب خلفه أيقنوا أنها من أمهات المؤمنين.

  • أنَّ وقت الوليمة هو عند البناء بالزوجة، والدخول عليها؛ لأنَّ هذه الفترة هي المقصودة من النكاح، وما قبلها تمهيد لها.
  • أنَّ المشروع هو تخفيف الوليمة، والدعوة إليها، والاستعداد لها، فإن كان الإنسان موسرًا فتكون بالشاتين والثلاث فأكثر قليلاً، حسب حال الزوج، وقَدْر المدعوِّين، وإن كان في حالة سفر، أو حالة عسرة فيكفي ما تيسَّر من الطعام والشراب.
  • أنَّ صنع الوليمة للزواج متأكد جدًّا؛ فالسفر والتخفُّف من الزاد فيه لم يمنع من إعدادها، والاجتماع لها.
  • جواز الدخول على المرأة في السفر، وذلك لثبوته من فعله -عليه الصلاة والسلام-.
  • جواز التوكيل في الدعوة للوليمة.
  • الإشارة إلى أنه ينبغي أن لا يكون في الولائم إسراف ولا تبذير لقوله: فما كان فيها من خبز ولا لحم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید