حدیث

باغ قبول کرلو اور اسے ایک طلاق دے دو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن عباس أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ثابت بن قيس، ما أعْتِبُ عليه في خُلُقٍ ولا دِيْنٍ، ولكني أكره الكفر في الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أتردين عليه حديقته؟» قالت: نعم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «اقبل الحديقة وطلقها تطليقة».

ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! مجھے ثابت بن قیس کے اخلاق اور دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے، البتہ میں اسلام میں کفر کو پسند نہیں کرتی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: کیا تم ان کا باغ (جو انہوں نے مہر میں دیا تھا) واپس کر سکتی ہو؟۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے (ثابت رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: باغ قبول کر لو اور اسے ایک طلاق دے دو۔

تشریح

اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ جو اکابرِ صحابہ میں سے تھے، ان کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ کو بتایا کہ ثابت رضی اللہ عنہ میں انہیں ان کے اخلاق یا دین کے اعتبار سے کوئی بھی بات ناپسند نہیں ہے ۔اخلاقی اور دینی لحاظ سے وہ بہترین صحابہ میں سے ہیں تاہم انہیں یہ ناپسند ہے کہ اگر وہ ان کے ساتھ رہیں تو کہیں ان کے حق میں کوتاہی کی وجہ سے وہ خاوند کی نافرمانی کی مرتکب نہ ہو جائیں جب کہ خاوند کی نافرمانی اللہ کی شریعت کے مخالف ہے۔ ان كی ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو ناپسند کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ جسمانی طور پر بدنما تھے اور خوبصورت نہیں تھے جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ثابت رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات رکھی کہ ان کی بیوی انہیں وہ باغ واپس کر دیتی ہے جو انہوں نے اسے بطور مہر دیا تھا اور وہ انہیں ایک طلاق دے دیں جس سے وہ ان سے الگ ہو جائے۔ ثابت رضی اللہ عنہ نے ایسا کر لیا۔ فقہاء رحمہم اللہ کے ہاں یہ حدیث خلع کے باب میں بنیادی دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔

تشریح: العربية

أفاد هذا الحديث أن امرأة ثابت بن قيس -رضي الله عنه وعنها- وكان ثابت من خيار الصحابة: جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وأخبرته أنها لا تنكر من أمر ثابت رضي الله عنه خُلُقًا ولا دينًا، فهو من أحسن الصحابة خلقًا وديانةً، ولكنها كرهت إن بقيت معه أن يحصل منها كفران العشير بالتقصير في حقه، وكفران العشير مخالف لشرع الله، و كان سبب كراهتها له دَمَامَةُ خِلْقَتِهِ رضي الله عنه كما في بعض الروايات، فلم يكن جميلاً، فعرض -عليه الصلاة والسلام- على ثابت أن ترد عليه امرأته الحديقة التي أعطاها إياها مهرًا، ويطلقها تطليقة تكون بها بائنًا، ففعل رضي الله عنه ، وهذا الحديث أصل في باب الخلع عند الفقهاء -رحمهم الله-.

  • ثبوت الخلع، وأنه فرقة جائزة في الشريعة بأن تفتدي الزوجة بما تدفعه للزوج مقابل الفسخ.
  • أن طلب الزوجة للخلع مباح إذا كرهت الزوج، إما لسوء عشرته معها، أو دمامته، أو نحو ذلك من الأمور المنفرة.
  • قيد بعض العلماء الإباحة للزوجة بالطلب بما إذا لم يكن زوجها يحبها، فإن كان يحبها، فيستحب لها الصبر عليه.
  • أنه ينبغي للزوج إجابة طلبها إلى الخلع إذا طلبته؛ لقوله -صلى الله عليه وسلم-: "اقبل الحديقة، وطلقها تطليقة".
  • يجب أن يكون الخلع على عوض؛ لقوله تعالى-صلى الله عليه وسلم-: "اقبل الحديقة، وطلقها تطليقة".
  • أنه لابد في الخلع من صيغة قولية؛ لقوله: "وطلقها تطليقة".
  • يستدل بالحديث على أنه يجوز إيقاع الخلع زمن الحيض، لأن النبي -عليه الصلاة والسلام- لم يستفصل امرأة ثابت أهي على طهر أم حيض، فدل ذلك على الجواز.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید