حدیث

نبی ﷺ کے دور میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے اپنے شوہر سے خلع لے لیا تو نبی ﷺ نے انہیں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن عباس رضي الله عنهما «أن امرأة ثابت بن قيس اخْتَلَعَت من زوجها على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فأمرها النبي صلى الله عليه وسلم أن تَعْتَدَّ بحَيْضَة».

ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے دور میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے اپنے شوہر سے خلع لے لیا تو نبی ﷺ نے انہیں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا۔

تشریح

یہ حدیث خلع سے متعلق اس قصہ کے تابع ہے جو ثابت بن قیس اور ان کی بیوی کے درمیان واقع ہوا، اور یہ روایت اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ ثابت (رضی اللہ عنہ) سے طلاق کے بعد ان کی بیوی کو نبی ﷺ نے ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا، نہ کہ تین حیض۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ مطلقہ عورت کی عدت تین حیض اس لیے قرار پائی کہ اس کی مدت طویل ہو، ممکن ہے کہ اس کا خاوند اس سے رجوع کر لے اور طلاق دینے پر شرمندہ وپشیمان ہو اس طرح اس طویل مدت میں اسے رجوع کرنے کا موقع میسر ہوگا، جب کہ اس کے بر خلاف خلع ایسی فرقت و جدائی ہے جو میاں بیوی کی رضامندی سے طے ہوتی ہے اور اس میں رجوع و واپسی کا اختیار نہیں رہتا ہے، چنانچہ براءتِ رحم کی معرفت و جانکاری کے لیے (مدتِ عدت) ایک حیض کافی ہے، بیشتر علماء کے نزدیک یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ خلع فسخِ نکاح ہے طلاق نہیں ہے، اس لیے کہ طلاق کی عدت تین حیض ہے۔

تشریح: العربية

هذا الحديث تابع لقصة الخلع التي حدثت بين ثابت بن قيس رضي الله عنه وامرأته، وقد أفادت هذه الرواية أنها بعد طلاقها من ثابت أمرها النبي صلى الله عليه وسلم أن تعتد بحيضة واحدة، وليس ثلاث حيضات، والحكمة من ذلك أن المرأة المطلقة جُعِلَتْ حيضتها ثلاث حيض لتطول؛ لأنه ربما راجعها زوجها وندم على طلاقها فله فرصة في هذه المدة الطويلة ليرجعها، بخلاف الخلع فإن الفرقة صارت بينهما برضاهما ولا رجعة فيها، فيكفي في معرفة براءة رحمها حيضة واحدة، والحديث دليل لكثير من العلماء على أن الخلع فسخ وليس بطلاق، لأن الطلاق عدته ثلاث حيض.

  • هذا الحديث أقوى دليل لمن قال إن الخلع فسخ، وليس بطلاق إذ لو كان طلاقا لم يكتف بحيضة للعدة.
  • أن الحكمة من جعل عدتها حيضة واحدة هي العلم باستبراء رحمها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید