ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "خير الصدقة ما كان عن ظَهْر غِنى، واليدُ العُليا خيرٌ مِن اليد السُّفلى، وليَبدأْ أحدُكم بِمَن يَعول". تقول امرأته: أنْفِقْ علَيَّ، وتقول أمُّ ولده: إلى مَن تَكِلُني، ويقول له عَبْدُه: أطْعِمْنِي واسْتَعْمِلْنِي.
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو بے نیازی سے ہو۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ اور تم میں سے ہر کسی کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں سے صدقہ دینے کی شروعات کرے جو اس کے زیرِ پرورش ہوں،، (کہیں ایسا نہ ہو کہ) اس کی بیوی اس سے کہنے لگے تم میرے اوپر خرچ کرو اور ام ولد کہے کہ مجھے کس کے انحصار پرچھوڑ رہے ہواور اس کا غلام کہے مجھے کھلاؤ اور مجھ سے کام لو۔
تشریح
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ سب سے بہتر صدقہ وہ ہے کہ صدقہ کرنے والے کے اہل و عیال اس چیز کے محتاج نہ ہوں اور خرچ کرنے والا مقروض نہ ہو نیز خرچ کرنے والے پر واجب ہے کہ ان لوگوں سے صدقہ وخیرات دینے کی شروعات کرے جن کی وہ پرورش کرتاہے،، مثال کے طور پر جیسے اس کی بیوی اور اس کے لڑکے اور اس کی باندیاں ہیں۔ لہذا اس کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ان پر خرچ کیے جانے والے اخراجات کو روکے اور دور والوں پر صدقہ وخیرات کرے اور رشتہ داروں کو چھوڑ دے جن کی پرورش اور نان ونفقہ کی ذمہ داری اس پر ہے۔
تشریح: العربية
بين الحديث أن أفضل الصدقات ما كان المتصدق به غير محتاج إليه لنفقةِ عياله وأهله، ولا يحتاجه لسداد دين عن نفسه، وأن الواجب على المُنفِق أن يبدأ بنفقات من يعول، كالزوجة والأولاد وما ملكت يمينه، وأنه لا ينبغي أن يحبس النفقة عنهم فيتصدق على البعيدين، ويترك الأقربين، ممن يعولهم وينفق عليهم. وبين الحديث أنه إنْ فَضُل عنده ما يزيد على نفقة من هم تحت يده، فإنه يتصدق على الأبعدين من الفقراء والمحتاجين، ثم بين الحديث فضل الإنفاق بأنَّ يدَ المُعطي والمنفق هي العُليا على يد الآخذ حسًّا ومعنًى؛ وذلك بما أنفق من ماله، وبذل من إحسانه.
- فضل الصدقة, والترغيب في البذل والإنفاق.
- فضل اليد العليا المنفقة أو المحسنة على اليد السفلى الآخذة أو السائلة.
- أن أفضل الصدقة ما كان عن سعة وفضل وغنى بعد أن يؤدي ما يلزمه نحو أهله ومن يعول, ثم يجود بعد ذلك على البعيدين.
- أنَّ الواجب على المُنفِق أن يبدأ بنفقات من يعول، فلا يذهب ليتصدق على البعيدين، ويترك الأقربين، ممن يعولهم وينفق عليهم.
- وجوب الإنفاق على من ذكر من الزوجة والمملوك.
- أنَّ نفقة الزوجة هي أوجب نفقة تجب عليه بعد النفقة على النفس؛ ذلك أنَّ الزوجة حبيسة عنده؛ كما قال -صلى الله عليه وسلم-: "هنَّ عَوان عندكم"؛ أي: أسيرات.
- أنَّ الذي يعسر بنفقة زوجته عليه أن يفارقها بطلاق أو خلع أو فسخ، وذلك راجع إلى رغبتها وطلبها.