حدیث

علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے؟ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس اللہ کی قسم جس نے بیج کو اگایا اور انسانی جان کو پیدا فرمایا! میرے علم میں تو کوئی ایسی شے نہیں سوائے قرآن کی اس سمجھ بوجھ کے جو اللہ کسی شخص کو عنایت فرماتا دیتا ہے اور سوائے ان باتوں کے جو اس صحیفے میں ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي جحيفة رضي الله عنه قال: قلت لعلي رضي الله عنه : هل عندكم شيء من الوحي إلا ما في كتاب الله؟ قال: «لا والذي فَلَقَ الحَبَّةَ، وبَرَأَ النَّسْمَةَ، ما أعلمه إلا فَهْمَاً يُعطيه الله رجلا في القرآن، وما في هذه الصحيفة»، قلت: وما في الصحيفة؟ قال: «العَقْلُ، وفِكَاكُ الأَسير، وأن لا يُقتَلَ مسلم بكافر».

ترجمہ

ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے؟ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس اللہ کی قسم جس نے بیج کو اگایا اور انسانی جان کو پیدا فرمایا! میرے علم میں تو کوئی ایسی شے نہیں سوائے اُس فہمِ قرآن کے جو اللہ کسی شخص کو عنایت فرماتا دیتا ہے اور سوائے ان باتوں کے جو اس صحیفے میں ہیں۔ میں نے پوچھا: صحیفے میں کیا ہے؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں دیت اور قیدیوں سے متعلق احکام ہیں اور یہ کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔

تشریح

ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ نے آپ کو بطورِ خاص کوئی ایسا علم یا تحریر دی ہے جو دوسرے لوگوں کو نہ دی ہو؟۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال اس لیے کیا کیونکہ شیعوں کے ایک گروہ کا یہ گمان تھا کہ اہلِ بیت اور خصوصاً علی رضی اللہ عنہ کے پاس وحی پر مشتمل کچھ ایسی چیزیں ہیں جو نبی ﷺ نے بطورِ خاص انہی کو عنایت فرمائی تھیں اور کسی اور کو اس کا علم نہیں۔ علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ایک سے زیادہ لوگوں نے کیا۔ اس پر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک ایسی قسم کھا کر جواب دیا جو عرب لوگ کھایا کرتے تھے کہ اس اللہ کی قسم جس نے انسان کو پیدا فرمایا اور بیج کو پھاڑ کر اگایا! ان کے پاس سوائے اس (قرآنی ) سمجھ بوجھ کے جو اللہ اپنے بندے کو عنایت فرما دیتا ہے اور سوائے اس نوشتہ کے کچھ بھی نہیں جس میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے منقول کچھ باتیں لکھ رکھی تھیں، جس میں دیت اور مسلمان قیدیوں کو قید سے نجات دلانے سے متعلق احکام مندرج تھیں اور یہ لکھا ہوا تھا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ کافر مسلمان کا ہم پلہ نہیں ہوتا ہے کہ اُس کے بدلے میں اِسے قتل کردیا جائے بلکہ وہ اِس سے کم تر ہوتا ہے۔

تشریح: العربية

سأل أبوجحيفة رضي الله عنه عليًّا رضي الله عنه : هل خصكم النبي صلى الله عليه وسلم بعلم أو شيء مكتوب عندكم دون غيركم من الناس، وإنما سأله أبو جحيفة عن ذلك لأن جماعة من الشيعة كانوا يزعمون أن عند أهل البيت لا سيما عليًّا أشياء من الوحي خصهم النبي صلى الله عليه وسلم بها لم يطلع غيرهم عليها، وقد سأل عليًّا عن هذه المسألة غير واحد، فأجابه علي رضي الله عنه حالفًا يمينًا كانت تحلفه العرب، وهو الحلف بالله الذي خلق الإنسان وشق الحب، بأنه ليس عندهم شيء غير الفهم الذي يؤتيه الله عبده، غير كتاب كتبه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فيه أحكام الديات وتخليص أسرى المسلمين من الأسر، وأن لا يقتل مسلم بكافر، وذلك لأن الكافر ليس كفؤاً للمسلم ليقتل به، بل هو دونه.

  • أنه لا يقتل مسلم بكافر، فإن الكافر غير مكافىء للمسلم.
  • مفهومه أن الكافر يقتل بالمسلم وهو إجماع العلماء؛ ويؤيده ما في الصحيح: "أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قتل يهوديًّا رضخ رأس جارية من الأنصار"، ولأن المسلم أعلى رتبة بإسلامه من الكافر.
  • وجوب فك الأسير المسلم.
  • ما امتن الله به على أهل السنة من ظهور كذب الرافضة في دعواهم أن عند أهل البيت قرآنًا سوى هذا المصحف.
  • أن الله يمن على من يشاء من عباده بنعمة الفهم.
  • جواز الإقسام بلا قسم إذا كان الأمر مهمًّا واقتضت المصلحة ذلك.
  • احتفاظ علي -رضي الله عنه- بالسنة وعنايته بها وكتابته لها.
  • حرص أبي جحيفة -رضي الله عنه- على السؤال والعلم.
  • تحمل العاقلة -وهم عصبة الرجل من الذكور الذين يرثونه- للدية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید