حدیث

کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کرقسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کردیتا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحیہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔

عربی متن

عن أنس أن الرُّبَيِّعَ عمته كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جارية، فطلبوا إليها العفو فأبوا، فعرضوا الأرْشَ فأبَوْا، فأتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبوا إلا القصِاَصَ فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالقصاص، فقال أنس بن النضر: يا رسول الله أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ؟ لا والذي بعثك بالحق لا تُكسر ثنيتها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «يا أنسُ، كتابُ اللهِ القصاصُ». فرضي القومُ فَعَفَوْا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبَرَّهُ».

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی رُبَیِّع نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے، پھر اس لڑکی سے لوگوں نے معافی کی درخواست کی لیکن انہوں نے معافی سے انکار کر دیا ۔انہوں نے دیت کی پیشکش کی، انہوں نے اسے بھی ٹھکرا دیا اور رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قصاص کے سوا کسی دوسری چیز پر راضی نہیں تھے۔چنانچہ آپ ﷺ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ اس پر انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ربیع رضی اللہ عنہاکے دانت توڑ دیے جائیں گے؟ نہیں ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، ان کے دانت نہیں توڑے جائیں گے! اس پر حضور ﷺ نے فرما یا ، انس ! کتابُ اللہ کا حکم قصاص کا ہی ہے۔ پھر لڑکی والے راضی ہوگئے اور انھوں نے معاف کردیا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر ہی دیتا ہے“۔

تشریح

اس حدیث میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ رُبَیِّع رضی اللہ عنہا نے انصار میں سے کسی بچی کے سامنے والے کچھ دانت توڑ دیے۔ رسولُ اللہ ﷺ نے ان پر قصاص لاگو کرنے کا ارادہ فرمایا اور وہ یہ تھا کہ ان کے بھی دانت توڑے جائیں۔ تو انس بن نضر رضی اللہ عنہ (جو کہ ان کے بھائی تھے) نے بطور استفہام نہ کہ اللہ کے حکم کا انکار کرتے ہوئے آپ ﷺ سے پوچھا۔ اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ قسم اٹھائی کہ ان (رضی اللہ عنہا) کے دانت نہیں توڑے جائیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ کا فیصلہ قصاص کے ساتھ مکمل ہو گا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ وہ دِیت دینے کے لیے راضی ہیں تو انہوں نے قصاص معاف کر دیا۔ اُس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کی درستگی اور اللہ سے امید کی مضبوطی کی وجہ اس کو مکمل کر دیتا ہے۔

تشریح: العربية

أفاد الحديث أنَّ الربيع رضي الله عنها كسرت بعض مقدم أسنان جارية من الأنصار فأراد النبي صلى الله عليه وسلم أن يقيم عليها القصاص، وهو أن تكسر ثنيتها، فقام أنس بن النضر-وهو أخوها- فسأل مُستفهمًا وليس منكرا لحكم الله، وحلف ألا تكسر ثنيتها رضي الله عنها إحسانًا للظن بالله تعالى ، فذكره النبي -عليه الصلاة والسلام- بأن حكم الله قاضٍ بالقصاص، فلما رأى القوم ذلك رضوا بالدية وعفوا عن القصاص، فحينذاك أخبر -عليه الصلاة والسلام- أن من عباد الله من لو أقسم يمينًا لأتمها الله له، لصلاحه وثقته بالله تعالى .

  • ثبوت القصاص في السن؛ كما قال -تعالى-: {والسن بالسن} [المائدة: 45]، ولا يكون القصاص إلا في العمد، أما الخطأ وشبه العمد فليس فيهما إلا الدية.
  • يكون القصاص بالسن المماثلة للسن المجني عليها.
  • أن القصاص هو حكم الله -تعالى-، يجب القيام به، ما لم يعف صاحب الحق.
  • أن كل من وجب له القصاص في النفس أو دونها فعفا على مال فرضوا به جاز.
  • أن الخيار في القصاص أو العفو أو الدية إنما هو لمن وقعت عليه الجناية لا لمن وقعت منه.
  • جواز طلب العفو من المجني عليه.
  • أن الحق لولي الصغير.
  • أن المؤمن إذا لَجَّ به الغضب والحمية، فصدر منه ما ظاهره الاعتراض على أمر الله وحكمه، وهو لم يرد به الإنكار والمعارضة، وإنما قصد به طلب الشفاعة ونحو ذلك فلا يؤخذ بذلك؛ فإنما الأعمال بالنيات.
  • في الحديث دليل على كرامات الأولياء، فإنَّ أنس بن النضر حلف ألا تكسر ثنية الربيع فأبر الله قسمه -رضي الله عنه-، وعلى الإنسان أن يخشى ويهاب الله -تعالى-، ولا يغتر بعمله فيرى نفسه مثلهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید