ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن سعيد بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من قُتِلَ دُون مَالِهِ فهو شَهيدٌ، ومن قُتِلَ دُون أهْلِهِ، أو دُونَ دَمِهِ، أو دُون دِيْنِهِ فهو شَهيدٌ».
ترجمہ
سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے ۔ اور جو اپنے گھر والوں کی حفاظت یا خون یا دین کے دفاع میں قتل ہو جائے وہ بھی شہید ہے“۔
تشریح
حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہےکہ اگر کسی شخص کو چور، لٹیرے یا ایسے شخص کاسامنا ہو جو اس سے اس کا مال بغیر شرعی حق کے قوت و اختیار کے ساتھ لینا یا غصب کرنا چاہتا ہو تو اس شخص پر ضروری ہے کہ وہ اپنے مال کے دفاع میں اس سے لڑائی کرے۔ اگر وہ اپنے مال کے دفاع میں مارا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی موت کا ثواب شہید کی موت کی طرح ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس شہید کی طرح ہے جو میدان جنگ میں ہوتا ہے، جس کو غسل نہیں دیا جائے گا۔ اسی طرح جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا، یا عزت کا دفاع کرتے ہوئے مارا گیا جو اس کی بیوی یا کسی بھی محرم کے ساتھ برائی کا ارادہ رکھتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے چنانچہ وہ شخص ان کی طرف سے دفاع کرتے ہوئے مارا جائے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کے اجر جیسا ہو گا۔ فقہاء کے نزدیک یہ حدیث ظالم حملہ آور کا دفاع کرنے کے سلسلے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
تشریح: العربية
أفاد الحديث أنَّ من تعرّض له لصٌ أو غاصب ٌوحاول أخْذَ ماله منه غصباً قوةً واقتداراً بغير حق شرعي، فإنّ عليه أن يقاتله دفاعاً عن ماله، فإن قُتِلَ في الدفاع عن ماله فهو شهيد في حكم الله تعالى وثوابه، وليس القصد أنه كشهيد المعركة لا يغسل، وكذلك من قُتل دفاعاً عن نفسه، أو دفاعا عن عرضه ممن أراد بامرأته ومحارمه سوءاً مما حرمه الله فدافع عنهم فله عند الله تعالى أجر الشهداء، وهذا الحديث أصل عند الفقهاء فيما يسمى دفع الصائل وهو المعتدي.
- الجاني هو المعتدي على نفس، أو طرف، أو عرض، أو مال، فمن اعتدى على شيء من ذلك، فللمعتدي عليه الدفع عن ذلك بأسهل ما يغلب على ظنه دفعه به، فإن لم يندفع إلا بالقتل، فلا ضمان على المدافع.
- مشروعية الدفاع عن المال؛ لأن المقتول دفاعا عن ماله لم ينل مرتبة الشهادة، إلا لأن قتاله دون ماله قتال مشروع.
- أما الشهادة التي نالها فهي مرتبة الشهداء، الذين قتلوا ظلمًا دون حقوقهم، وهي من جنس الشهادة التي قتل صاحبها وهو يقاتل؛ لتكون كلمة الله هي العليا.