حدیث

بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی۔ اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اسے پڑھا، یاد کیا اور سمجھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ ﷺ کےبعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال وهو جالس على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن الله قد بعث محمدًا صلى الله عليه وسلم بالحق، وأنزل عليه الكتاب، فكان مما أُنْزِلَ عليه آية الرجم، قَرَأْنَاَهَا وَوَعَيْنَاَهَا وعَقِلْنَاَهَا، فَرَجَمَ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ورجمنا بعده، فأخشى إن طال بالناس زمان أن يقول قائل: ما نجد الرجم في كتاب الله فَيَضِلُّوا بترك فريضة أنزلها الله، وإن الرجم في كتاب الله حَقٌّ على من زنى إذا أَحْصَنَ من الرجال والنساء، إذا قامت البينة، أو كان الحَبَلُ، أو الاعتراف".

ترجمہ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ رسول اللہ ﷺکے منبر پر تشریف فرما تھے بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی، اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اسے پڑھا، یاد کیا اور سمجھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ ﷺکے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی، مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر ایک لمبا زمانہ گزر جائے گا تو کوئی کہنے والا کہے گا: ہم اللہ کی کتاب میں رجم (کا حکم) نہیں پاتے، تو وہ لوگ ایسے فرض کو چھوڑنے سے گمراہ ہو جائیں گے جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور بلاشبہ اللہ کی کتاب میں رجم (کا حکم) عورتوں اور مردوں میں سے ہر ایک پرجس نے زنا کیا، جب وہ شادی شدہ ہو برحق ہے۔ (یہ سزا اس وقت دی جائے گی،) جب شہادت قائم ہو جائے یا حمل ٹھہر جائے یا (زانی کی طرف سے) اعتراف ہو۔

تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اور وہ اسلام ہے۔ آپ ﷺ پر بہترین کتاب نازل فرمائی اور وہ قرآن ہے جس میں آیت رجم بھی نازل کی گئی جو کہ شادی شدہ زانی کے لیے تھی، اس کے الفاظ کو قرآن میں سے منسوخ کر دیا گیا جب کہ اس حکم کو باقی رکھا گیا۔ ان کو یہ ڈر پیدا ہوا کہ بعد میں آنے والے لوگ قرآن کریم کے اس حکم کے منکر نہ ہو جائیں اس لیے اس کو بیان کر دیا ۔اور یہ بالکل برحق ہے کہ کوئی بھی شادی شدہ شخص جب زنا کرے اور اس کا نکاح صحیح ثابت ہو جائے یا وہ اپنے زنا کا اقرار یا اعتراف کر لے یا پھر بغیر شادی کے حمل وجود میں آ جائے یا پھر عورتوں کے معاملات کا کوئی ماہر یہ بتا دے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اس کی سزا رجم ہے۔ یہ وہ امور ہیں جو زانی کے لیے رجم کی سزا کو ثابت کرتے ہیں۔

تشریح: العربية

صعد عمر بن الخطاب رضي الله عنه المنبر وخطب الناس، فكان مما قاله إن الله بعث محمدًا صلى الله عليه وسلم بدين الحق وهو الإسلام، وأنزل عليه خير الكتب وهو القرآن، فكان مما نزل فيه آية الرجم لمن زنى وهو محصن، إلا أنه نسخ لفظها من القرآن وبقي حكمها، وخشي رضي الله عنه إن تقادم عهد الناس عن القرآن أن ينكروا حكمها فذكرهم بها، وأنها حق، فكل من زنى وهو محصن وحصل منه نكاح صحيح، أو حصل الإقرار بالزنى والاعتراف به، أو وجد الحمل بغير زوج أو سيد من المرأة وهي محصنة فعليها الرجم، فبهذه الأمور يثبت حد الرجم في حق من زنى.

  • أنزل الله آية الرجم في كتابه، فكان نصها: "الشيخ والشيخة إذا زنيا فارجموها ألبتة، نكالاً من الله والله عزيز حكيم" فذكرهم بها أمير المؤمنين -رضي الله عنه-.
  • الرجم لا يكون إلاَّ في حق المحصَن، والمحصن هو مَن وطىء زوجته -ولو ذمية- في نكاحٍ صحيحٍ، في قبُلها، والزوجان مكلَّفان حرَّان، فإن اختل شرط من هذه الشروط، فلا إحصان لواحد منهما.
  • الحديث دليل على أن الزنا يثبت بهذه الأمور الثلاثة وهي الإقرار والبينة والحمل، وإن كان الأخير موضع خلاف بين العلماء.
  • أن آية الرجم كانت من كتاب الله ثم نسخ لفظها وبقي حكمها.
  • وجوب إقامة الحدود لقوله فيضلوا بترك فريضة.
  • فضيلة عمر بن الخطاب -رضي الله عنه-، حيث أعلن هذا الحكم وذكّر به وقرنه مع شهادة التوحيد ونبوة محمد -صلى الله عليه وسلم-.
  • إثبات أن القرآن كلام الله -تعالى-، وأن الله -تعالى- له صفة العلو.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید