حدیث

ہر نشہ آور چیز 'خمر' (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم وأخرج البخاري الجملة الأخيرة منه

عربی متن

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وكل مُسْكِرٍ حرام، ومن شرِب الخمر في الدنيا فمات وهو يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ، لَمْ يَشْرَبْهَا في الآخرة».

ترجمہ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "ہر نشہ آور چیز 'خمر' (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ عقل کو غا‎ئب کر دینے والی ہر چیز خمر اور نشہ آور شے ہے۔ خواہ کھانے کی چیز ہو، پینے کی چیز ہو، سونگھنے کی چیز ہو یا کچھ اور۔ ساتھ ہی یہ کہ نشہ لانے والی اور عقل کو غا‎ئب کرنے والی ہر چیز کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور اس کے استعمال سے منع کیا ہے۔ کم ہو یا زیادہ۔ جس نے کسی بھی نشہ آور شے کا استعمال پابندی سے کیا اور اس سے توبہ کیے بغیر دنیا سے رخصت ہوگیا، تو وہ اللہ کے اس عقاب کا مستحق ہوگیا کہ جنت میں اسے شراب پینے سے محروم رکھا جائے۔

فوائد

  • شراب کو حرام قرار دیے جانے کی علت اس کا نشہ آور ہونا ہے۔ لہذا ہر نشہ آور شے حرام ہے۔
  • اللہ تعالی نے شراب کو اس لیے حرام قرار دیا، کیوں کہ اس میں بڑے بڑے نقصانات اور مفاسد مضمر ہیں۔
  • جنت کے اندر شراب نوشی کمال لذت اور تمام نعمت کی دلیل ہوگی۔
  • جو دنیا میں خود کو شراب نوشی سے نہیں روکے گا، اللہ اسے جنت کی شراب سے محروم رکھے گا۔ کیوں کہ انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا اس کا عمل رہتا ہے۔
  • موت سے پہلے جلد از جلد گناہوں سے توبہ کر لینے کی ترغیب۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنّ كل ما يُغيِّبُ العقلَ ويُذهبُه فهو خمر مُسْكر سواء كان شربًا أو أكلًا أو استنشاقًا أو غير ذلك، وأن كل ما يسكر ويذهب العقل فقد حرّمه الله عز وجل ونهى عنه، قليله وكثيره، وأن كل من شرب أي نوع من أنواع تلك المسكرات، وواظب على شربها ولم يتب منها حتى مات؛ فهو مستحق لعقاب الله بحرمانه من شربها في الجنة.

  • علة تحريم الخمر الإسكار، فكل ما يُسكر من أي نوع كان فهو حرام.
  • الله -تعالى- حرَّم الخمر؛ لما تشتمل عليه من الأضرار والمفاسد العظيمة.
  • شرب الخمر في الجنة من كمال اللذة وتمام النعيم.
  • مَن لم يُمسكْ نفسَه عن شرب الخمر في الدنيا حَرَمَه الله شربَها في الجنة، فالجزاء من جنس العمل.
  • الحث على المبادرة بالتوبة من الذنوب قبل الموت.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید