حدیث

بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ایسے دو لوگوں کی سی ہے جن کے بدن پر چھاتيوں سے ہنسلی تک لوہے کی دو زرہیں ہوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «مثل البخيل والمنفق، كمثل رجلين عليهما جُنتان من حديد من ثُدِيِّهما إلى تَرَاقِيهما، فأمَّا المنفق فلا ينفق إلا سَبَغت -أو وَفَرَت- على جلده حتى تخفي بنانه وتَعْفُو أثره، وأمَّا البخيل فلا يريد أن ينفق شيئاً إلا لزقت كل حلقة مكانها، فهو يوسعها فلا تتسع».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ایسے دو لوگوں کی سی ہے جن کے بدن پر چھاتیوں سے ہنسلی تک لوہے کی دو زرہیں ہوں۔ خرچ کرنے کا عادی (سخی) خرچ کرتا ہے تو اس کے تمام جسم کو (وہ زرہ) چھپا لیتی ہے یا ( راوی نے یہ کہا کہ ) تمام جسم پر وہ کشادہ ہو جاتی ہے اور اس کی انگلیاں اس میں چھپ جاتی ہے اور چلنے میں اس کے پاؤں کا نشان (زرہ کی لمبے ہونے کی وجہ سے ) مٹتا جاتا ہے۔ لیکن بخیل جب بھی خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ سے چمٹ جاتا ہے۔ بخیل اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوپاتا“۔

تشریح

نبی ﷺ نے کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال دی۔ آپ ﷺ نے انہیں دو ایسے لوگوں سے تشبیہہ دی جن میں سے ہر ایک کے جسم پر ایک زرہ ہو جس نے اسے چھپا رکھا ہو اور سینے سے لے کر ہنسلی تک اسے محفوظ رکھتی ہو۔ 'ترقوہ' سینے کے بالائی حصے میں موجود ایک ہڈی کا نام ہے (ہنسلی کی ہڈی)۔ خرچ کرنے والا جب بھی خرچ کرتا ہے تو یہ زرہ پھیلتی جاتی ہے اور لمبی ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے گھسٹتی ہے اور اس کے پاؤں، اس کے چلنے اور اس کے قدموں کے نشانات کو چھپا لیتی ہے جب کہ کنجوس شخص کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس کی زرہ اس پر تنگ ہوگئی ہے یہاں تک کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے بندھ جائیں اور جب بھی وہ کشادہ ہونے کا ارادہ کرے تو زرہ اس کی ہنسلی کے ساتھ لپٹ جائے۔

تشریح: العربية

ضرب النبي صلى الله عليه وسلم مثلاً للبخيل والمنفق، وصفهما برجلين على كل واحد منهما درع يستره ويقيه من الثدي إلى الترقوة -وهي العظم الذي في أعلى الصدر-، فأمَّا المنفق كلما أنفق سبغت وطالت حتى تجر وراءه وتخفي رجليه وأثر مشيه وخطواته، وأمَّا البخيل فكرجل ضاق عليه درعه حتى غُلت يده إلى عنقه كلما أراد توسيعها اجتمعت ولزمت ترقوته.

  • قيام التمثيل مقام الدليل على تفضيل المتصدق على البخيل.
  • الصدقة تكفر الخطايا.
  • بشارة المتصدق الكريم بحصول البركة والعون والستر والحفظ من البلاء بعون الله -تعالى-.
  • الكريم إذا هم بالصدقة انشرح لها صدره وطابت نفسه وعكسه البخيل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید