حدیث

جس نے کھجور کے ایسے درخت بیچے، جن کی تلقیح کی جاچکی ہو، تو ان کا پھل بیچنے والے کا ہوگا، سوائے اس کے کہ خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه مرفوعًا: «من باع نخلًا قد أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا للبائع، إلا أن يشترط المُبْتَاعُ». وفي رواية: «ومن ابْتَاعَ عبدا فمالُه للذي باعه إلا أن يشترط المُبْتَاعُ».

ترجمہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کھجور کے ایسے درخت بیچے، جن کی تلقیح کی جاچکی ہو، تو ان کا پھل بیچنے والے کا ہوگا، سوائے اس کے کہ خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”جس نے اپنا غلام بیچا، اس (غلام) کا مال بیچنے والے کا ہو گا، الا کہ خریدار شرط لگا دے“۔

تشریح

’تابیر‘ (پیوندکاری) کا حق فروخت کنندہ کو حاصل ہے اور درخت کے پھل پر بھی یہی حکم عائد ہوگا۔ (یعنی وہ بھی فروخت کنندہ کا ہو گا) کیوں کہ اس پھل کے سبب یعنی پیوندکاری کو اسی نے سر انجام دیا ہے۔ سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا دے کہ پھل اس کا ہو گا۔ اگر کھجوروں کی پیوند کاری ہو چکی ہو اور فروخت کنندہ اس شرط کو قبول کر لے، تو فروخت کنندہ اور خریدار اپنے مابین طے شدہ شرط کے پابند ہوں گے (اور یوں پھل خریدار کا ہو جائے گا)۔ یہی حکم اس غلام کا ہے، جس کے ہاتھ میں اس کے آقا نے کچھ مال تھما رکھا ہو۔ اگر وہ اسے فروخت کر دے، تو اس کے ہاتھ میں موجود مال اس کے آقا کا ہوگا، جس نے اسے بیچا ہے۔ کیوں کہ عقد ِبیع میں یہ مال شامل نہیں۔ الا یہ کہ خریدار اس پورے مال یا اس کے کچھ حصے کی شرط لگا دے (کہ وہ بھی عقد میں شامل ہوگا)، تو وہ عقدِ بیع میں شامل ہو جائے گا۔

تشریح: العربية

حق التأبير للبائع، وألحق به الثمرة لكونه قد باشر سببها وهو التأبير، إلا أنه متى اشترط المشتري أن تكون له الثمرة -وإن كان النخل قد لقحت- وقبل البائع ذلك، فهما على ما اشترطا. وكذلك العبد الذي جعل سيده بيده مالًا، فإن باعه فماله لسيده الذي باعه لأن العقد لا يتناوله، إلا أن يشترطه المشتري، أو يشترط بعضه، فيدخل في البيع.

  • أن من باع نخلا قد أُبّرت فثمرتها للبائع، وهذا ما نطق به الحديث.
  • أن من باع نخلا لم تؤبر، فثمرتها للمشتري، وهذا ما يفهم من الحديث.
  • إن استثنى البائع الثمرة التي لم تؤبر، أو بعضها فهي له بشرطه.
  • إن اشرط المشتري دخول الثمرة المؤبرة بالعقد، فهي له بشرطه.
  • صحة اشتراط بعض الثمرة؛ لقوله [ إلا أن يشترط المبتاع ]، فهو صادق عليه كله، وعلى بعضه.
  • ألحق الفقهاء بالبيع جميع التصرفات: كأن يكون النخل عوض صلح، أو صداقا، أو جعله صاحبه أجرة، أو هبة أو غير ذلك مما فيه نقل الملك.
  • دخول الثمرة في البيع إذا اشتريت قبل التأبير، أو اشترطها المشتري وهي مؤبرة، يُعَدّ بيعاً للثمر قبل بُدُو صلاحه، لكن رخص فيه لأنه تابع لأصله، ليس مستقلا، والقاعدة العامة "يثبت تبعًا ما لا يثبت استقلالًا" وهذه الصورة منها وبهذا تجتمع النصوص.
  • أن من باع عبدا وقد جعل بين يديه مالا يتصرف به، فالمال للبائع إلا أن يشترطه المشتري مع الصفقة، أو يشترط بعضه، فيدخل مع المبيع، وحينئذ يشترط فيه ما يشترط غيره من المبيعات.
  • لا يضر أن يكون مع العبد المبيع ما يدخله الربا مع الثمن، كأن يتبعه فضة والثمن ريالات فضية، لأنه تابع.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید