حدیث

کیا میں تمہیں کچھ ایسے کلمات نہ سکھا دوں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے۔ اگر تمہارے اوپر پہاڑ برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تمہاری طرف سے اس کی ادائیگی کے اسباب میسر کر دے گا؟ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ اكْفِني بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِواكَ“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن علي - رضي الله عنه-: أن مُكَاتَبًا جاءه فقال: إني عَجَزْتُ عن كتابتي فَأَعِنِّي، قال: ألا أعلمك كلمات عَلَّمَنِيهِنَّ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم لو كان عليك مثلَ جبلٍ دَيْنًا أَدَّاهُ الله عنك؟ قل: «اللهم اكْفِنِي بحلالك عن حرامك، وأَغْنِنِي بفضلك عَمَّنْ سِوَاكَ».

ترجمہ

علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مکاتب غلام ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ: میں اپنا ’مالِ کتابت‘ دینے سے عاجز آ گیا ہوں، میری کچھ مدد کریں۔ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:" کیا میں تمہیں کچھ ایسے کلمات نہ سکھا دوں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے۔ اگر تمہارے اوپر پہاڑ برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تمہاری طرف سے اس کی ادائیگی کے اسباب مہیا کر دے گا؟ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ اكْفِني بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِواكَ“ اے اللہ! جن اشیاء کو تو نے حرام کیا ان سے بچاتے ہوئے اپنی حلال کردہ اشیاء کو میرے لیے کافی کر دے اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کردے۔

تشریح

اس حدیث میں ایک مکاتب غلام کا ذکر ہے۔ مکاتب وہ شخص ہوتا ہے جس نے اپنے آقا سے کچھ قسط وار ادا کیے جانے والے مال کے عوض اپنی آزادی خریدنے کا معاہدہ کر لیا ہو۔ لیکن اس غلام کے پاس اپنے آقا کو قرض ادا کرنے کے لیے مال نہیں تھا چنانچہ اس نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ قرض کی ادائیگی میں اس کی مدد کریں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک ربانی علاج کی طرف رہنمائی فرمائی جو ایک دعا تھی جسے نبی ﷺ نے انہیں سکھایا تھا کہ اگر وہ پورے اخلاص سے یہ دعا مانگے تو اس کی طرف سے اللہ اس کا قرض ادا کر دے گا اگرچہ وہ پہاڑ برابر ہی کیوں نہ ہو۔ علی رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ اكْفِني بِحَلاَلِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِواكَ“ اے اللہ! جن اشیاء کو تو نے حرام کیا ان سے بچاتے ہوئے اپنی حلال کردہ اشیاء کو میرے لیے کافی کر دے اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کردے۔ یعنی اے اللہ میرے لیے حلال روزی میں کفایت شعاری عطا فرما، جو مجھے حرام کی ضرورت سے بے نیاز کردے، اور میرے لیے اپنے فضل وکرم سے رزق مہیا فرما جو مجھے لوگوں سے مانگنے سے بے نیاز کردے۔

تشریح: العربية

في هذا الحديث يأتي مكاتب، وهو شخص قد كاتب سيده على أن يشتري حريته منه بمبلغ من المال مقسَّطًا، ولكن هذا العبد لم يجد مالًا لكي يسدد سيده؛ فلجأ إلى علي بن أبي طالب رضي الله عنه يسأله أن يساعده في قضاء دينه، فأرشده رضي الله عنه إلى العلاج الرباني، وهو دعاء علمه إياه النبي صلى الله عليه وسلم ، إذا قاله مخلصًا قضى الله عنه دينه ولو كان مثل الجبل، فقال له: قل: «اللهم اكفني بحلالك عن حرامك، وأغنني بفضلك عمن سواك». والمعنى: اجعل لي كفاية في الحلال، تغنيني بها عن الحاجة للحرام، واجعل لي رزقًا من فضلك تغنيني به عن سؤال الناس.

  • مشاورة وطلب رأي أهل العلم والدين.
  • على أهل العلم والدعاة إلى الله -تعالى- دلالة المدعوين وإرشادهم إلى ما يعينهم على ما يعرض لهم من مشكلات.
  • الحث على إعانة المكاتب.
  • الدعاء بهذه الكلمات؛ لأن بركتها تظهر في وفاء الدين، والاستغناء بالله عن الناس.
  • الرزق الحلال وإن قل خير من المال الحرام وإن كان كثيرًا.
  • الفضل كله لله - تعالى-، فلا ينسب خير إلا له -تعالى- ولغيره تبعًا.
  • ينبغي على العبد أن يستعين بالله -تعالى- وحده فيما لا يقدر عليه إلا الله -تعالى-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید