حدیث

قسم کھانا‘ سامان تجارت کی فروخت کا ذریعہ تو ہے مگر اس سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیححدیث متفق علیہ اور یہ الفاظ ابو داؤد کے ہیں۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «الحَلِفُ مَنْفَقَة للسلعة، مَمْحَقَة للكسب».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قسم کھانا‘ سامان تجارت کی فروخت کا ذریعہ تو ہے مگر اس سے برکت ختم ہوجاتی ہے“۔

تشریح

نبی ﷺ قسم کھانے کو معمولی سمجھنے اور سامانِ تجارت کو بیچنے اور کمائی کرنے کی خاطر کثرت سے قسم کھانے سے ڈرا رہے ہیں۔ اس لیے کہ بائع جب کسی سامان پر جھوٹی قسم کھاتا ہے تو خریدنے والا بائع کی قسم کھانے کے سبب اسے اپنی قسم میں سچا سمجھتے ہوئے اس سامان کو زائد قیمت میں خرید لیتا ہے، چنانچہ اس کی پاداش میں برکت ختم ہو جاتی ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ منافع کے ساتھ ساتھ حقیقی قیمت بھی ضائع ہو جائے۔ یقیناً جو کچھ اللہ تعالی کے پاس ہے اسے اس کی نافرمانی کے ذریعہ حاصل نہیں کرسکتے۔ بکثرت قسم کھانا اللہ تعالی کی تعظیم میں کمی کرتی ہے جو کہ توحید کے منافی ہے۔

تشریح: العربية

يُحَذِّر صلى الله عليه وسلم من التّهاون بالحَلِف، وكثرة استعماله؛ لترويج السِلع، وجلب الكسب؛ فإن البائع إذا حلف على سلعة وهو كاذب؛ فقد يظنه المشتري صادقا فيما حلف عليه، فيأخذها بزيادة على قيمتها تَأَثُّرًا بيمين البائع، فيُعَاقَب بمحق البركة، وربما ذهب رأس المال والربح معا؛ فإن ما عند الله لا يُنَالُ بمعصيته، والإكثار من الحلف تنقص لتعظيم الله، وذلك ينافي التوحيد.

  • التحذير من استعمال الحَلِف لأجل ترويج السِّلَع؛ لأن ذلك امتهان لاسم الله -تعالى-، وهو يُنْقِص التوحيد.
  • بيان ما يترَتّب على الأَيْمان الكاذبة من الـمضارّ.
  • إن الكسب الحرام وإن كَثُرَت كِمِّيّته؛ فإنه منزوع البركة لا خير فيه.
  • تحريم الإكثار من الحَلِف.
  • تحريم ترويج السِّلَع بالحرام.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید