ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ».
ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔
تشریح
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں بتا رہے ہيں کہ کوئی مسلمان اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں بن سکتا، جب تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کو اپنی ماں، اپنے باپ، اپنے بیٹے، اپنی بیٹی اور دیگر تمام لوگوں کی محبت سے آگے نہ رکھے۔ اس محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و نصرت کی جائے اور آپ کی معصیت سے گریز کیا جائے۔
فوائد
- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت رکھنا اور آپ کی محبت کو دیگر مخلوقوں کی محبت سے آگے رکھنا واجب ہے۔
- کمال محبت کی علامتوں میں سنت رسول کی نصرت اور اس راہ میں جان و مال کی قربانی دینا بھی داخل ہے۔
- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ کے حکموں کی تعمیل کی جائے، آپ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کی جائے، آپ کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے، آپ کی اتباع کی جائے اور بدعتوں سے اجتناب کیا جائے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا حق تمام لوگوں کے حق سے زیادہ بڑا اور زیادہ اہم ہے۔ کیوں کہ آپ کے ذریعے سے ہی ہمیں گمراہی سے ہدایت ملی اور جہنم سے نجات اور جنت سے سرفرازی کا راستہ ملا۔
تشریح: العربية
يُخْبِرُنا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم أنَّ المسلم لا يكون كاملَ الإيمان حتى يُقَدِّمَ محبةَ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم على محبة أمه وأبيه وابنه وابنته والناس أجمعين، وهذه المحبة تقتضي طاعتَه ونصرتَه، وتركَ معصيتِه.
- وجوب محبة الرسول صلى الله عليه وسلم، وتقديمها على محبَّة كل مخلوق.
- من علامة كمال المحبة: نَصرُ سنة رسول الله، وبذل النفس والمال في ذلك.
- محبة الرسول صلى الله عليه وسلم تقتضي طاعتَه فيما أمر وتصديقَه فيما أخبر واجتناب ما نهى عنه وزجر، واتباعَه وترك البدع.
- حق النبي صلى الله عليه وسلم أعظم وآكَدُ من كل الناس؛ لأنه كان سببًا في هدايتِنا من الضلالة واستنقاذِنا من النار والفوز بالجنة.