حدیث

نبیﷺ جب کسی کی عیادت کے لیے جاتے، تو آپ ﷺ کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی فکر کی کوئی بات نہیں، اِن شاء اللہ (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبدالله بن عباس رضي الله عنهما أنّ النبي صلى الله عليه وسلم دخلَ على أعرابيٍّ يَعُودُه، وكان إذا دَخَلَ على مَن يَعودُه، قال: «لا بأس؛ طَهُور إن شاء الله».

ترجمہ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کی عیادت کرنے کے لیے گئے، اور نبیﷺ جب کسی کی عیادت کے لیے جاتے، تو آپ ﷺ کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی فکر کی کوئی بات نہیں، ان شاء اللہ (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا۔

تشریح

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کے بیمار ہونے پر اس کی عیادت کرنے کے لیے گئے اور نبی ﷺ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے، تو کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی کوئی سختی اور تکلیف کی بات نہیں اور تمہارا یہ مرض تمہارے گناہوں، عیبوں کو إن شاء اللہ پاک کرنے والا ہو گا، نیز آخرت میں بلندیٔ درجات کا سبب بھی بنے گا۔

تشریح: العربية

عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل على أعرابي يزوره في مرضه، وكان إذا دخل على مريض يزوره، قال: "لا بأس؛ طهور إن شاء الله"، يعني: لا شدة عليك ولا أذى، وأن يكون مرضك هذا مطهرا ًلذنبك، مكفراً لعيبك، وأيضًا سبباً لرفع الدرجات في العقبى.

  • استحباب الدعاء للمريض بما يبشره بالأجر، والتكلم بما يطمئنه.
  • كمال تواضعه –صلى الله عليه وسلم- المتضمن لرأفته ورحمته وتعليمه لأمته.
  • لا نقص على الإمام في عيادة بعض رعيته ولو أعرابياً جافياً.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید