حدیث

ہم خبّاب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کے لیے گئے۔انہوں نے (بغرضِ علاج) سات داغ لگوا رکھے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحیہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔

عربی متن

عن قيس بن أبي حازم، قال: دخلنا على خباب بن الأرت - رضي الله عنه - نعودُه وقد اكْتَوى سبعَ كَيّات، فقال: إن أصحابنا الذين سَلفوا مضوا، ولم تَنقصهم الدنيا، وإنّا أصبنا ما لا نجد له مَوضعاً إلا التراب ولولا أن النبي - صلى الله عليه وسلم - نهانا أن ندعوَ بالموت لدعوتُ به. ثم أتيناه مرة أخرى وهو يبني حائطاً له، فقال: إن المسلم ليُؤجَر في كل شيء يُنفقه إلا في شيء يجعلُه في هذا التراب.

ترجمہ

قيس بن حازم رحمہ اللہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کی عیادت کے لیے گئے۔ انہوں نے (بغرضِ علاج) سات داغ لگوا رکھے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارے ساتھی جو پہلے وفات پا چکے وہ اس حال میں رخصت ہوئے کہ دنیا ان کا اجر و ثواب کچھ نہ گھٹا سکی اور ہم نے (مال و دولت) اتنی پائی کہ جس کے خرچ کرنے کے لیے ہمیں مٹی کے علاوہ اور کوئی جگہ نہیں ملتی۔ اگر نبی کریم ﷺ نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی دعا کرتا۔ پھر ہم ان کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے تو وہ اپنی دیوار بنا رہے تھے۔ انہوں نے کہا: مسلمان کو ہر اس چیز پر ثواب ملتا ہے جسے وہ خرچ کرتا ہے ماسوا اس خرچ کرنے کے جو وہ مٹی پر کرتا ہے (عمارتیں وغیرہ بنواتا ہے۔)

تشریح

حدیث میں بیان ہے کہ خباب بن ارت کو سات دفعہ (بطور علاج) داغ لگایا گیا تھا۔ ان کے کچھ دوست احباب ان کی عیادت کو آئے تو انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ صحابہ جو ان سے پہلے وفات پا چکے ہیں انہوں نے دنیا کی لذات سے کچھ فائدہ اٹھایا ہی نہیں کہ اس کی وجہ سے ان کے لیے جو آخرت میں اجر و ثواب تیار کر کے رکھا گیا ہے اس میں کچھ کمی ہو۔ جب کہ انہیں بہت زیادہ مال ملا ہے جسے محفوظ کرنے کے لیے انہیں سوائے اس کے کوئی جگہ نہیں ملتی کہ اس سے عمارتیں بنائیں۔ انہوں نے مزید فرمایا: اگر اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں موت کی دعا مانگنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور موت کی دعا کرتا۔ سوائے اس وقت کے جب دین کے سلسلے میں فتنوں میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو، اس صورت میں آدمی موت کی دعا کر سکتا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ پھر فرمایا کہ انسان جو کچھ خرچ کرتا ہے اس پر اسے اجر ملتا ہے ماسوا اس خرچ کے جو وہ مٹی پر کرتا ہے یعنی عمارت کی تعمیر پر۔ کیونکہ عمارت کے سلسلے میں اگر انسان صرف بقدر کفایت پر انحصار کر لے تو اسے زیادہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ جب کہ یہ مال جو وہ زائد از ضرورت عمارت پر خرچ کرتا ہے اس پر انسان کو کوئی اجر نہیں ملتا ماسوا اس عمارت کے جسے وہ فقراء کے لئے بناتا ہے تاکہ وہ اس میں سکونت اختیار کریں یا پھر وہ عمارت جس کی آمدن کو وہ اللہ کے راستے میں وقف کر دیتا ہے یا اس طرح کی کوئی عمارت۔ صرف اس صورت میں اسے اجر ملتا ہے۔تاہم ایسی عمارت جسے وہ خود اپنی سکونت کے لیے بنائے اس میں اسے کوئی اجر نہیں ملتا۔ داغ لگوانے کے سلسلے میں جو نہی وارد ہوئی ہے وہ اس شخص کے لئے ہے جو یہ عقیدہ رکھے کہ داغ لگوانے میں شفاء ہے۔ اس کے برعکس جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ شفاء دینے والی ذات اللہ عزوجل کی ہے تو اس کے داغ لگوانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یا پھر یہ ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو کسی اور طریقۂ علاج کو اختیار کرنے پر قادر ہو لیکن جلد بازی کرے اور اسے آخری طریقہ علاج کے طور پر استعمال نہ کرے۔

تشریح: العربية

في الحديث أن خباب بن الأرت رضي الله عنه كُوِي سبع كيات ثم جاءه أصحابه يعودونه فأخبرهم أن الصحابة الذين سبقوا ماتوا ولم يتمتعوا بشيء من ملذات الدنيا، فيكون ذلك منقصاً لهم مما أُعدَ لهم في الآخرة. وإنه أصاب مالاً كثيرا ًلا يجد له مكانًا يحفظه فيه إلا أن يبني به، وقال: ولولا أن رسول الله نهانا أن ندعو بالموت لدعوت به، إلا عند الفتن في الدين فيدعو بما ورد. ثم قال: إن الإنسان يؤجر على كل شيء أنفقه إلا في شيء يجعله في التراب يعني: في البناء؛ لأن البناء إذا اقتصر الإنسان على ما يكفيه، فإنه لا يحتاج إلى كبير نفقة، ، فهذا المال الذي يجعل في البناء الزائد عن الحاجة لا يؤجر الإنسان عليه، اللهم إلا بناء يجعله للفقراء يسكنونه أو يجعل غلته في سبيل الله أو ما أشبه ذلك، فهذا يؤجر عليه، لكن بناء يسكنه، هذا ليس فيه أجر. والنهي الذي جاء عن الكي هو لمن يعتقد أن الشفاء من الكي، أما من اعتقد أن الله عز وجل هو الشافي فلا بأس به، أو ذلك للقادر على مداواة أخرى وقد استعجل ولم يجعله آخر الدواء.

  • فضل خباب بن الأرت، ومزيد عرفانه بمولاه، وشدة اتهامه لنفسه، ومحاسبته لها حتى في المباحات.
  • النهي عن تمني الموت.
  • كراهية الزيادة في البناء من غير حاجة.
  • الحث على عيادة المريض.
  • جواز الاكتواء عند الحاجة، هذا ما دل عليه الحديث، ولكن ذلك مع الكراهة وألا يبدأ به بدلالة النصوص الأخرى.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید