حدیث

یا رسول اللہ! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تو نے اسے بطور مہر کیا دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے کیوں نہ ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى عبد الرحمن بن عوف، وعليه ردَعْ ُزَعفَرَان. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «مَهْيَمْ؟ فقال: يا رسول الله تزوجت امرأة، فقال: ما أصدقتها؟ قال: وَزْنُ نواة من ذهب قال: بارك الله لك، أَوْلِمْ ولو بشاة».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ کو دیکھا کہ ان پر زعفرانی رنگ چڑھا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تو نے اسے بطور مہر کیا دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ایک گٹھلی کے ہم وزن سونا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے کیوں نہ ہو۔

تشریح

نبی ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر کچھ زعفران کا نشان لگا دیکھا۔ جب کہ مردوں کے لیے وہ خوشبو اچھی ہوتی ہے جس کی مہک تو خوب پھیلے لیکن اس کا نشان مخفی رہے، (جب کہ زعفران میں یہ خوبی نہیں ہوتی اور وہ عورتوں کی خوشبو مانی جاتی ہے)۔آپ ﷺ نے ناپسندیدگی کے انداز میں ان پر لگے اس زعفرانی رنگ کے نشان کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ ان کی نئی نئی شادی ہوئی ہے اور ان پر یہ رنگ ان کی بیوی سے لگ گیا ہے۔چنانچہ اس پر آپ ﷺ انہیں رخصت دے دی۔ چونکہ آپ ﷺ صحابہ پر بہت شفقت اور مہربانی فرمایا کرتے تھے اس لیے آپﷺ ان کے احوال پر نظر رکھا کرتے تھے تاکہ انہیں اچھی حالت پر باقی رہنے دیں اور بری حالت سے انہیں منع کریں۔ آپ ﷺ نے ان سے اپنی بیوی کو دیے گئے مہر کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے کھجور کی ایک گٹھلی برابر سونا بطور مہر دیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی اور انہیں اپنی شادی کی وجہ سے ولیمہ کرنے کا حکم دیا اگرچہ ایک بکری ہى سے ہو۔

تشریح: العربية

رأى النبي صلى الله عليه وسلم على عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه شيئًا من أثر الزعفران، وكان الأولى بالرجال أن يتطيبوا بما يظهر ريحه، ويخفي أثره، فسأله- بإنكار- عن هذا الذي عليه، فأخبره أنه حديث عهد بزواج، فقد يكون أصابه من زوجه، فرخص له في ذلك. ولما كان صلى الله عليه وسلم حَفِيا بهم، عطوفاً عليهم، يتفقد أحوالهم ليقرهم على الحسن منها، وينهاهم عن القبيح، سأله عن صداقه لها. فقال: ما يعادل وزن نواة من ذهب. فدعا له صلى الله عليه وسلم بالبركة، وأمره أن يولم من أجل زواجه ولو بشاة.

  • كراهة التطيب بالزعفران وما يظهر أثره من الطيب، للرجال.
  • تفقد الوالي والقائد لأصحابه، وسؤاله عن أحوالهم وأعمالهم.، التي تعنيه وتعنيهم.
  • استحباب تخفيف الصداق. فهذا عبد الرحمن بن عوف، لم يصدق زوجته إلا وزن خمسة دراهم من ذهب.
  • الإشارة إلى أصل الصداق في النكاح، بناء على مقتضى الشرع و العادة.
  • الدعاء للمتزوج بالبركة، وقد ورد الدعاء للمتزوج بهذا الدعاء "بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما بخير".
  • مشروعية الوليمة من الزوج، وأن لا تقل عن شاة إذا كان من ذوى اليسار. قال ابن دقيق العيد: الوليمة: الطعام المتخذ لأجل العرس، وهو من المطلوبات شرعا ولعل من فوائده إشهار النكاح باجتماع الناس للوليمة.
  • أن يدعى إليها أقارب الزوجين، والجيران، والفقراء، وأهل الخير ليحصل التعارف والتآلف، والبركة، وأن يجتنب السرف، والمباهاة، والخيلاء
  • قال شيخ الإسلام: أجمع العلماء على جواز عقد النكاح بدون فرض الصداق، وتستحق مهر المثل إذا دخل بها بإجماعهم.
  • كراهة تكثير المهور والمغالاة فيها بقصد الرياء والسمعة وإذا تحمله حقيقة كان فيه تكليف الإنسان ما لا يطيق، وهو منكر شرعًا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید