حدیث

رسو ل اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی اجرت اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي مسعود رضي الله عنه «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الكلب، ومَهْرِ البغي، وحُلْوَانِ الكَاهِنِ».

ترجمہ

ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی اجرت اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔

تشریح

روزی تلاش کرنے کے بہت سے عمدہ، معزز اور پاکیزہ راستے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے خبیث اور رذیل کے مقابلہ بنایا ہے۔ چونکہ پہلے(پاکیزہ) راستے دوسرے راستوں کے بنسبت کفایت گزار ہیں، نیز ان غلط راستوں کے نقصانات اول الذکر راستوں کے بالمقابل زیادہ ہیں، چنانچہ شریعت نے ان ناپاک راستوں کوحرام قرار دیا۔ ذیل کے تینوں اقسام کے معاملات انہی ناپاک راستوں میں سے ہیں۔ 1- کتے کا بیچنا۔ اس لیے کہ یہ ناپاک اور خبیث ہے۔ 2- بعینہ فاحشہ عورت کا اپنے گناہ کے بدلے اجرت لینا، جس سے دین و دنیا دونوں برباد ہوتے ہیں۔ 3- اسی میں جھوٹ اور گمراہ کرنے والے لوگ کی (ٹھگی کرکے) کمائی کرنا بھی شامل ہے، جن کا دعویٰ ہے کہ وہ غیب جانتے ہیں، کائنات میں تصرف کرتے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں غلط خیالات ڈال کر ان کے اموال حاصل کرکے انہیں باطل طریقے سے کھاتے ہیں۔ یہ تمام خبیث راستے ناجائز اور حرام ہیں اور ان کا اختیار کرنا اور ان کی کمائی لینا بھی حرام ہے۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے جائز اور اچھے راستے فراہم کيے ہیں۔

تشریح: العربية

لطلب الرزق طرق كريمة شريفة طيبة، جعلها الله عوضا عن الطرق الخبيثة الدنيئة. فلما كان في الطرق الأولى كفاية عن الثانية، ولما كانت مفاسد الثانية عظيمة لا يقابلها ما فيها من منفعة، حَرَّم الشرع الطرق الخبيثة التي من جملتها، هذه المعاملات الثلاث. 1- بيع الكلب: فإنه خبيث رجس. 2- وكذلك ما تأخذه الزانية مقابل فجورها، الذي به فساد الدين والدنيا. 3- ومثله ما يأخذه أهل الدجل والتضليل، ممن يدعون معرفة الغيب والتصرف في الكائنات، ويخيلون على الناس-بباطلهم- ليسلبوا أموالهم، فيأكلوها بالباطل. كل هذه طرق خبيثة محرمة، لا يجوز فعلها، ولا تسليم العوض فيها، وقد أبدلها اللَه بطرق مباحة شريفة.

  • النهي عن بيع الكلب، وتحريم ثمنه، ولا فرق بين المُعلَّم وغيره، وكلب الزرع والماشية وغيره، وإنما يجوز اقتناؤه فقط بهذه الأشياء الثلاثة.
  • تحريم البغاء وتحريم ما يؤخذ عليه، سواء كان من حُرَةٍ أو أمة، فهو خبيث من عمل خبيث في جميع طرقه.
  • تحريم الكهانة ونحوها من العرافة، والتنجيم، وضرب الحصى، وتحضير الجن، وتحريم أخذ شيء على هذه الأعمال الشيطانية.
  • من هذه المنهيات وغيرها، يُعلم أنَّ الشريعة تنهى عن كل ما فيه مضرة وما يترتب عليه من مكاسب.
  • الكلب غير متقوم، يعني: لو أتلف شخصٌ كلب الصيد أو الحرث أو الماشية فلا قيمة له شرعا؛ أنه لو كان له قيمة لجاز له الثمن، إذ أن القيمة عوض عن العين المتلفة، والثمن عوض عن العين الفائتة عن صاحبها، وهذا هو القول الراجح، ولكن من أتلف كلب غيره لغير عذر فيستحق التعزير.
  • حفظ العرض أولى من حفظ المال، فلا يجوز اتخاذ الزنا والبغاء مهنة للتكسب وأخذ المال.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید