حدیث

اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «تعوذوا بالله من جَهْدِ البلاء، وَدَرَكِ الشقاء، وسوء القضاء، وشماتة الأعداء». وفي رواية قال سفيان: أشك أني زدت واحدة منها.

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے“۔ ایک روایت میں ہے، سفیان رحمہ اللہ نے کہا: مجھے شک ہے کہ میں نے ان میں سے ایک بات زیادہ بیان کی ہے۔ (معلوم نہیں وہ کون سی ہے)۔

تشریح

یہ حدیث جوامع الکلم میں سے ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ نے چار چیزوں سے پناہ مانگی، اگر انسان ان چار چیزوں سے محفوظ رہا تو وہ دنیا و آخرت میں محفوظ رہے گا اور یہی حقیقی کامیابی ہے اور بڑی نجات ہے۔ جوامع الکلم ایسی باتوں کو کہتے ہیں جو کم لفظوں میں زیادہ معانی سمائے ہوں۔ آپ ﷺ نے چار چیزوں سے پناہ مانگی، وہ چار چیزیں درج ذیل ہیں: ”مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ“ یعنی مصیبتوں کی سختی اور مشقت سے (اللہ کی پناہ) اس لیے کہ جب مصیبت سخت ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ کی مضبوط اور محکم تقدیر پر وہ اپنے آپ کو زد کوب سے نہیں بچا سکتا جس کی وجہ سے وہ دنیا اور آخرت میں وہ خسارہ اٹھاتا ہے۔ ”وَدَرَكِ الشَّقَاءِ“ یعنی بدبختی کا لاحق ہونا۔ یہ عام ہے اس میں آخرت کی بدبختی ترجیحی بنیاد پر شامل ہے جس کے بعد سُکھ نہیں بخلافِ دنیا کی بدبختی کے کہ دن تو ادلتے بدلتے رہتے ہیں کہ کبھی کوئی دن آپ کی خوشی کا ہوگا اور دوسرا دن بدبختی کا۔ ”وَسُوءِ الْقَضَاءِ“ یعنی جو مقدر میں ہو وہ ہوگا، جو انسان کو ناخوش حالات میں ڈال دے۔ یہ دنیا کے تمام امور کو عام ہے جیسے مال، اولاد، صحت اور بیوی وغیرہ۔ اسی طرح اُخروی امور کو بھی شامل ہے۔ یہاں پر قضاء سے مُراد حاصل شدہ امر ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور حکم سب کے سب خیر ہیں۔ ”وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ“ دُشمنوں کی ہنسی سے یعنی جس سے انسان متاثر ہوتا ہے جیسے دشمن کا تمہیں مصیبت میں دیکھ کر خوش ہونا، دینی دشمنوں کا اس حدیث میں داخل ہونا حقیقی ہے اور دنیا کے دشمنوں کا داخل ہونا ثانوی ہے۔

تشریح: العربية

هذا الحديث من جوامع الكلم؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم استعاذ من أربعة أمور، إذا سلم منها العبد سلمت له دنياه وأخراه، وهذا هو الفوز المبين، والفلاح العظيم؛ وجوامع الكلم اختصار المعاني الكثير في كلمات يسيرة. فقد استعاذ النبي صلى الله عليه وسلم من أربعة امور، وهي: "من جهد البلاء": أي شدة البلاء والجهد فيه- والعياذ بالله- لأن البلاء إذا اشتد فالإنسان لا يأمن نفسه من التبرم والضجر من أقدار الله تعالى، فيخسر بذلك العبد الدنيا والآخرة. "ودرك الشقاء": أي اللحاق بالشقاء، وهو عام ويدخل فيه شقاء الآخرة دخولا أوليا ، لأنه الشقاء الذي لا يعقبه هناء، بخلاف شقاء الدنيا فالأيام دول، يوم لك تسر به، ويوم عليك تشقي به. "وسوء القضاء": أي يقدر ويقع على العبد فيما لا يسره، وهو عام في كل شؤون الدنيا من: مال وولد وصحة وزوجة وغيرها، وشؤون الآخرة والمعاد. والمراد بالقضاء هنا: المقضي، لأن قضاء الله وحكمه كله خير . "وشماتة الأعداء": فهذا مما يتأثر به الإنسان أن يجد عدوه فرحا بمصابه، فدخول عدو الدين هو دخولا أصليا، وعدو الدنيا دخولاً ثانوياً.

  • تعليق الاستعاذة بالله تعالى يشعر بالطمأنية والأمن لقدرته سبحانه وتعالى على تحقيق العوذ، وصرف المستعاذ منه ، لأنه لا يصح التعوذ إلا بمن قدر على إزالة ما استعيذ به منه.
  • شفقة النبي صلى الله عليه وسلم ورحمته بأمته حيث أرشدهم إلى هذا الدعاء، فقال: " تعوذوا .." حرصًا على أمته.
  • استحباب الاستعاذة من الأشياء المذكورة، لأن الاستعاذة منها تدفع وقوع المكروه في الحياة الدنيا والآخرة.
  • الكلام المسجوع لا يكره إذا صدر عن غير قصد ولا تكلف.
  • فائدة الاستعاذة والدعاء: إظهار العبد حاجته وفاقته لربه العلي العظيم، وتضرعه إليه.
  • تعميم الخطاب في الأمر بقوله صلى الله عليه وسلم: "تعوذوا" يشير إلى أهميته، بحيث لا يختص بأحد دون أحد.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید