حدیث

نبی ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں برص، پاگل پن، کوڑھ کی بیماری اور تمام بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كَانَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ: «اللهم إني أعوذ بك من البَرَصِ، والجُنُونِ، والجُذَامِ، وَسَيِّئِ الأسْقَامِ».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں برص، پاگل پن، کوڑھ کی بیماری اور تمام بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

تشریح

اس حدیث میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ نبی ﷺ کچھ مخصوص امراض سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امراض بہت ہی خطرناک ہیں اور ان کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ پھر نبیﷺ نے عمومی طور پر کئی برے امراض سے سلامتی اور عافیت طلب کی۔ اس حدیث میں تخصیص بھی ہے اور اجمال بھی۔ نبی ﷺ نے پناہ مانگتے ہوئے کہتے: ”اللَّهمَّ إِنِّي أَعُوُذُ بِكَ مِنَ الْبرَصِ“ ’برص‘ سے مراد وہ سفیدی ہے جو بدن میں ظاہر ہوتی ہے اور اس سے لوگ انسان سے گھن کھانا لگتے ہیں جس کی وجہ سے انسان بالکل الگ تھلگ ہو کر رہ جاتا ہے جو بسا اوقات ڈیپریشن (ذہنی دباؤ) کا سبب بن جاتا ہے۔ العیاذ باللہ۔ ”وَالجُنُونِ“ اس کا معنی ہے عقل کا زائل ہو جانا۔ عقل ہی کی وجہ سے انسان مکلف ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ اللہ تعالی کی پیدا کردہ اشیاء اور اس کے کلام عظیم میں غور و فکر کرتا ہے۔ عقل کا ختم ہو جانا گویا انسان ہی کا ختم ہوجانا ہے۔ ”والجُذَامِ“ یہ ایک ایسا مرض ہے جس کی وجہ سے اعضاء جسم بوسیدہ ہو جاتے ہیں اور کٹ کر گرنے لگتے ہیں۔ العیاذ باللہ۔ ”وسّيءِ الأَسْقامِ“ یعنی بُرے امراض سے۔ اس سے مراد وہ جسمانی آفات ہیں جن کی وجہ سے انسان لوگوں کے مابین حقیر ہو کر رہ جاتا ہے اور لوگ طبعی طور پر اس سے دور رہنا شروع کر دیتے ہیں جیسے فالج، اندھا پن اور سرطان وغیرہ کیونکہ یہ بہت سخت قسم کے امراض ہیں جن کے علاج میں کافی پیسے خرچ ہوتے ہیں نیز اُن کا سامنا کرنے کے لیے قوی ترین صبر ہونا چاہیے۔ انہیں صرف وہی برداشت کر پاتا ہے جسے اللہ تعالی صبر دے دے اور اس کا دل باندھ دے۔ اس دعا سے اُس دین کی عظمت عیاں ہوتی ہے جو مسلمان کے جسم اور دین دونوں ہی کا لحاظ رکھتا ہے۔

تشریح: العربية

في الحديث كان النبي صلى الله عليه وسلم يستعيذ من أمراض معينة، وهذا يدل على خطرها، وعظيم أثرها، ثم سأل السلامة والعافية من قبيح الأمراض عموما، فقد تضمن هذا الدعاء: التخصيص والإجمال، فقال:" اللهم إني أعوذ بك من البرص"، وهو بياض يظهر في الجسم، يُوَلِّدُ نُفرة الخلق عن الإنسان، فيورث الإنسان العزلة التي قد تودي به إلى التسخط والعياذ بالله. "والجنون": وهو ذهاب العقل، فالعقل هو مناط التكليف وبه يعبد الإنسان ربه، وبه يتدبر ويتفكر في خلائق الله تعالى ، وفي كلامه العظيم، فذهاب العقل ذهاب بالإنسان. و"الجذام": وهو مرض تتآكل منه الأعضاء حتى تتساقط -والعياذ بالله– . "وسيء الأسقام": أي قبيح الأمراض: وهي العاهات التي يصير المرء بها مُهاناً بين الناس، تنفرُ عنه الطباع، كالشلل والعمى والسرطان، ونحو ذلك؛ لأنها أمراض شديدة تحتاج إلى كلفة مالية، وصبر قوي لا يتحمله إلا من صبره الله تعالى وربط على قلبه. وهنا تظهر عظمة هذا الدين الذي يحافظ ويرعى بدن المسلم ودينه.

  • الاستعاذة من الأمراض القبيحة المهلكة، التي قد تذهب بصبر الإنسان، فلا تبقي له شيئا من الأجر.
  • استعاذة الرسول -صلى الله عليه وسلم- من سيء الأسقام خشية ضعف الطاقة عن الصبر والوقوع في الضجر فيفوت الأجر.
  • هذه الأمراض المنصوص عليها في الحديث مفسدة للخِلْقَةِ والخُلُقِ، وتؤدي إلى نفور الخلق من صاحبها.
  • لم يستعذ النبي -صلى الله عليه وسلم- من جميع الأمراض؛ لأن الأمراض مطهرة للآثام مع الصبر عليها، ولا يخلو منها العباد، بل أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل.
  • قد يستدل بالحديث على مشروعية الحجر الصحي؛ لما أودعه الله في الجذام من سرعة العدوى، إضافة إلى سرعة فتكه بالمصابين به، زيادة على كونه محل نُفُور الطباع السليمة.
  • تعوُّذ النبي -صلى الله عليه وسلم- من سيئ الأمراض، يدخل فيه ما يعرف بالأمراض المستعصية الآن كالسرطان، فتكون مثل هذه الأحاديث محل الحرص؛ لأثرها في الصحة الوقائية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید