حدیث

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے، آگ کے عذاب سے نیز مال داری اور محتاجی کے شر سے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يدعو بهذه الكلمات: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار، وعذاب النار، ومن شر الغنى والفقر».

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا مانگا کرتے تھے ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ الْغِنَى، وَالْفَقْرِ“ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے، آگ کے عذاب سے نیز مال داری اور محتاجی کے شر سے۔

تشریح

نبیٔ مختار ﷺ چار امور سے پناہ مانگا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے“ یعنی وہ فتنہ جو آگ کی طرف لے جانے والا ہو، یہ بھی احتمال ہے کہ آگ کے فتنے سے مُراد زجر اور توبیخ کے لیے جہنم کے داروغے کا وہ سوال کرنا ہو جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اشارہ کیا گیا ہے: ﴿كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ﴾ ”کہ جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟“۔ ”آگ کے عذاب سے“ یعنی میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں جہنمیوں میں سے ہو جاؤں۔ جہنمی لوگ کافر ہیں جنہیں عذاب دیا جائے گا۔ جہاں تک موحد لوگوں کا تعلق ہے تو انہیں آگ سے عذاب نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کی تادیب و تہذیب کی جائے گی۔ ”مالداری کے شر سے“ یعنی اکڑ، سرکشی، حرام طریقے سے مال کا حصول، نافرمانی میں اس کا خرچ کرنا، مال و منصب پر فخر و نمود، مال کو جمع کرنے کی حرص، اسے حلال طریقہ سے حاصل نہیں کرنا اور جہاں خرچ کرنا ہے وہاں مال خرچ کرنے سے روکے رکھنا ہے۔ ”فقیری اور محتاجی کے شر سے“ یعنی وہ محتاجی ہے جس کے ساتھ صبر اور تقویٰ نہ ہو اور اپنے فقر کی وجہ سے وہ ایسی چیزوں میں پھنس جائے جو دیندار اور صاحبِ مروّت لوگوں کے شایانِ شان نہیں۔ ساتھ ہی مال داروں سے حسد کرنا، ان کے مال کی لالچ رکھنا، اس طرح اپنے آپ کو گرا دینا جو عزت و دین کے منافی ہے، اللہ کی تقسیم پر راضی نہ ہونا اور اس کے علاوہ وہ ساری چیزیں جن کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔

تشریح: العربية

كان النبي المختار -عليه الصلاة والسلام- يستعيذ من أمور أربعة: فقوله: (اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار) أي فتنة تؤدي إلى النار، ويحتمل أن يراد بفتنة النار سؤال الخَزَنَة على سبيل التوبيخ، وإليه الإشارة بقوله تعالى: (كلما ألقي فيها فوج سألهم خزنتها ألم يأتكم نذير). وقوله: (وعذاب النار) أي أعوذ بك من أن أكون من أهل النار، وهم الكفار فإنهم هم المعذبون، وأما الموحدون فإنهم مؤدبون ومهذبون بالنار لا معذبون بها. (ومن شر الغنى): وهو البطر والطغيان وتحصيل المال من الحرام وصرفه في العصيان، والتفاخر بالمال والجاه والحرص على جمع المال وأن يكسبه من غير حله ويمنعه من إنفاقه في حقوقه. و(الفقر) أي وشر الفقر، وهو الفقر الذي لا يصحبه صبر ولا ورع؛ حتى يتورط صاحبه بسببه فيما لا يليق بأهل الدين والمروءة، ويصحبه الحسد على الأغنياء والطمع في أموالهم والتذلل بما يدنس العِرْض والدين وعدم الرضا بما قسم الله له وغير ذلك مما لا تحمد عاقبته.

  • وجوب الابتعاد عن الفتن المسببة للابتلاء بالنار.
  • يبتلى العبد بالغنى كما يبتلى بالفقر؛ لأنهما فتنة.
  • الابتعاد عن الأسباب المهلكة المترتبة على فتنة الغنى كالبطر والكبر والحرص على جمع المال من الحرام ، والبخل بأداء حق الله تعالى فيه.
  • الابتعاد عن الأسباب المهلكة المترتبة على فتنة الفقر، كالتضجر، والتبرم من مقدر، والوقوع في المساخط والحسد.
  • الاستعاذة بالله من النار تستلزم الابتعاد عن جميع ما يسخط الله تعالى ، والفرار من المعاصي والخطايا ، والتزام الاستغفار والتوبة والتضرع إلى الله.
  • الغنى والفقر خير لمن أحسن استغلالهما.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید