ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه: أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا آكُلُ اللَّحْمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا؟ لَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي».
ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی ﷺ کے کچھ صحابہ نے نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات سے نبی ﷺ کی تنہائی کے معمول کے بارے میں پوچھا۔ (آپ ﷺ کی عبادت کا معمول سن کر) ان میں سے کسی نے کہا کہ میں عورتوں سے شادی نہیں کروں گا، کسی نے کہا کہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور کسی نے کہا کہ میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ (نبی ﷺ تک جب یہ بات پہنچی) تو آپ ﷺ نے اللہ تعالی کے حمد و ثنا کے بعد فرمایا: "کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے اس اس طرح کى باتیں کى ہیں؟ میں تو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، کبھی روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا اور میں عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ جس نے میری سنت سے گریز کیا اس کا مجھ سےکوئی تعلق نہیں۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کچھ صحابہ آپ کی بیویوں کے گھروں میں آئے۔ ان کا مقصد یہ جاننا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم گھر کے اندر کس طرح عبادت کرتے ہيں؟ جب ان کو آپ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا، تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مقام کہاں اور ہم کہاں؟ آپ کے تو اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دیے گئے ہیں۔ اس کے برخلاف جسے معلوم نہ ہو کہ اسے بخشا جائے گا یا نہيں، اسے زیادہ سے زیادہ عبادت کی ضرورت ہے، تاکہ بخشش کا سامان ہو جائے۔ اس کے بعد ان میں سے کسی نے کہا کہ میں شادی نہیں کروں گا۔ کسی نے کہا کہ میں گوشت نہيں کھاؤں گا۔ جب کہ کسی نے کہا کہ میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ اس کی اطلاع جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ملی، تو آپ نے ناراضگی ظاہر کی۔ لوگوں سے خطاب کیا۔ اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اس اور اس طرح کی بات کر رہے ہیں؟ اللہ کی قسم، میں تمھارے درمیان اللہ کى خشیت سے سب سے زیادہ متصف اور اس کا سب سے زیادہ تقوى رکھنے والا انسان ہوں۔ لیکن اس کے باوجود میں سوتا ہوں، تاکہ پورے نشاط کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھ سکوں، روزے کے بغیر رہتا ہوں، تاکہ روزے کی طاقت حاصل کر سکوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ لہذا جس نے میرے طریقے سے منہ موڑا، کسی اور طریقے کو کامل طریقہ جانا اور میرے علاوہ کسى اور کى راہ کو اختیار کیا، وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
فوائد
- صحابہ رضی الله عنہم خیر کے کاموں سے محبت کرتے تھے، اس کی رغبت رکھتے تھے اور اپنے نبی صلى الله عليہ وسلم کى اقتدا کى چاہت ان کے اندر بھرى ہوئى تھى۔
- اسلامی شریعت ایک کشادہ اور آسان شریعت ہے۔ اس کی یہ خوبی اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عمل اور طریقے سے ظاہر وباہر ہے۔
- خیر و برکت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کى اقتدا اور اتباع میں پنہاں ہے۔
- اپنے نفس پر طاقت سے بڑھ کر عبادت کا بوجھ ڈالنے کی ممانعت اور یہ وضاحت کہ یہ اہل بدعت کی روش ہے۔
- ابن حجر کہتے ہيں: عبادت میں شدت پسند رویہ اکتاہٹ کا سبب بنتا ہے، جو عبادت سے کنارہ کشی کی جانب لے جاتی ہے۔ جب کہ فرائض پر اکتفا اور نوافل سے احتراز سستی اور عبادت میں عدم نشاط کا سبب بنتا ہے۔ بہتر راستہ اعتدال کا راستہ ہے۔
- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے اکابر کے حالات، ان کے نقش قدم پر چلنے کے لیے، معلوم کیے جا سکتے ہيں۔ اگر مردوں سے معلوم کرنا دشوار ہو تو عورتوں سے بھی دریافت کیا جا سکتا ہے۔
- اس حدیث سے وعظ، علمی مسائل بیان کرنے، مکلفین کے آگے شرعی احکام بیان کرنے اور مجتہدین کے شبہات کو دور کرنے کی تعلیم ملتی ہے۔
- عبادت، بطور خاص فرائض ونوافل کی پابندی کے ساتھ اس میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ دوسروں کے حقوق بھی ادا کیے جا سکیں۔
- یہ حدیث نکاح کی فضیلت اور اس کی ترغیب پر دلالت کرتی ہے۔
تشریح: العربية
جَاءَ نَفَرٌ من الصحابة رضي الله عنهم إلى بيوت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم، يسألون عن عبادته في السر داخل بيته، فلما أُخبروا كأنهم تَقَالُّوها، فقالوا: وأين نحن من النبي صلى الله عليه وسلم؟ قد غُفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر، بخلاف مَن لم يعلم بحصول المغفرة له فيحتاج إلى المبالغة في العبادة عسى أن يَحصُل عليها. ثم قال بعضهم: لا أتزوج النساء. وقال بعضهم: لا آكل اللحم. وقال بعضهم: لا أنام على فراش. فبلغ ذلك النبيَّ صلى الله عليه وسلم، فغضب، وخطب الناس، فحمد الله وأثنى عليه وقال: ما شَأْنُ أقوامٍ قالوا كذا وكذا؟! والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له، لكني أنام لأتقوى على القيام، وأفطر لأتقوَّى على الصوم، وأتزوج النساء، فمن أعرض عن طريقتي ورأى الكمال في غيرها، وأخذ بطريقة غيري فليس مني.
- حب الصحابة رضي الله عنهم للخير، ورغبتهم فيه وفى الاقتداء بنبيهم صلى الله عليه وسلم.
- سماحة هذه الشريعة ويسرها، أخذًا من عمل نبيها صلى الله عليه وسلم وهديه.
- الخير والبركة في الاقتداء بالنبي صلى الله عليه وسلم، واتباع أحواله الشريفة.
- الزَّجْر عن التشديد على النفس في العبادات بما لا تطيق، وأن هذا من حال المبتدعين.
- قال ابن حجر: الأخذ بالتشديد في العبادة يُفضي إلى المَلَل القاطِع لأصلها، وملازمة الاقتصار على الفرائض مثلًا، وترك التنفُّل يفضي إلى إيثار البطالة، وعدم النشاط إلى العبادة، وخير الأمور الوسط.
- فيه تتبُّع أحوال الأكابر للتأسِّي بأفعالهم، وأنه إذا تعذَّرت معرفته من الرجال جاز استكشافه من النساء.
- فيه الوعظ وإلقاء مسائل العلم وبيان الأحكام للمكلَّفين، وإزالة الشبهة عن المجتهدين.
- الأمر بالترفُّق في العبادة، مع المحافظة عليها وعلى الفرائض والنوافل؛ ليراعي المسلم حقوق غيره عليه.
- في الحديث دلالة على فضل النكاح والترغيب فيه.