حدیث

ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عمرو بن العاص رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وصِيَامِ أهْلِ الكِتَابِ، أكْلَةُ السَّحَرِ».

ترجمہ

عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے“۔

تشریح

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ ہمارے اور یہود و نصاریٰ کے روزوں کے درمیان پایا جانے والا فرق و امتیاز اس کھانے کو قرار دے رہے ہیں، جو مسلمان سحری کے وقت کھاتے ہیں؛ کیوں کہ اہل کتاب سحری نہیں کرتے اور مسلمانوں کے لیے سحری کرنا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے۔ اس لیے کہ اس میں ایک جانب یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، تو دوسری جانب اس میں سنت کی مکمل پیروی کا مظاہرہ، جس میں برکت اور خیر ہی مضمر ہے، جیسا کہ سنت سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ جب کہ اہل کتاب کا روزہ نصف شب سے شروع ہوتا ہے، اس لیے وہ نصف شب سے پہلے ہی کھا لیتے ہیں اور سحری کے وقت نہیں کھاتے۔ چنانچہ شریعت یہ چاہتی ہے کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان حد فاصل قائم کی جائے۔

تشریح: العربية

يخبر النبي -عليه الصلاة والسلام- في هذا الحديث عن الفارق المميز بين صيامنا وصيام اليهود والنصارى، وهو الطعام الذي يأكله المسلمون وقت السحور، لأنَّ أهل الكتاب لا يتسحرون، والمسلمون يستحب لهم السحور؛ مخالفة لأهل الكتاب وتحقيقاً للسنة وفيه بركة وخير كما ثبت في السنة، وأهل الكتاب يصومون من نصف الليل، فيأكلون قبل منتصف الليل ولا يأكلون في السحر، والتمييز بين المسلمين والكفار أمر مطلوب في الشرع.

  • السحور من خصائص الأمة الإسلامية، والله تفضل به وبغيره من الرخص رأفة ورحمة بها.
  • مخالفة أهل الكتاب مقصد من مقاصد الشرع، وهدف من أهداف البعثة النبوية تمييزاً لهذه الأمة الإسلامية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید