ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس رضي الله عنه قال: قال رجلٌ: يا رسول الله، الرجلُ مِنّا يَلقى أخاه، أو صديقَه، أَيَنْحَني له؟ قال: «لا»، قال: أَفَيَلْتَزِمُهُ ويُقبِّلُهُ؟ قال: «لا» قال: فيأخذ بيده ويصافحُهُ؟ قال: «نعم».
ترجمہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم میں سے کوئی جب اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے، تو کیا وہ اس کے سامنے جھک جائے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں!، اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں!، اس نے کہا: تو پھر وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں!۔
تشریح
انسان کے اپنے (مسلمان) بھائی سے ملاقات کے وقت جھکنے کے متعلق نبی ﷺ سے سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس کے لیے جھکا نہیں جائے گا۔ پوچھنے والے نے کہا: کیا جھکنے کی بجائے اس سے چمٹ جائے اور معانقہ کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں! پھر سائل نے پوچھا: کیا مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔
تشریح: العربية
سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الانحناء عند لقاء المرء أخاه، قال: لا ينحني له، قال السائل: أيضمه إليه ويعانقه ولا ينحني له؟ قال: لا، قال السائل: هل يصافحه؟ قال: نعم.
- النهي عن الانحناء عند اللقاء.
- مشروعية المصافحة، وأنها تكون باليد.
- الالتزام وهو المعانقة لا تشرع إلا في مواطن استثناها الشرع.
- وجوب السؤال عن الحكم الشرعي لمن جهله، وخشي الوقوع في المحذور.
- ينبغي على العالم أن لا يضجر من كثرة سؤال الناس عن الأحكام الشرعية، ولو تكرر السؤال في حكم واحد.