حدیث

میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي“ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے اور اپنی شرم گاہ کے شر سے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن شكل بن حميد رضي الله عنه قال: قلت: يا رسول الله، عَلِّمْنِي دعاء، قال: (قل: اللهم إني أعوذ بك من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر مَنِيِّي).

ترجمہ

شکَل بن حمید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي“ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے اور اپنی شرم گاہ کے شر سے۔

تشریح

اس حدیث میں ہے کہ شکل بن حمید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس دنیا و آخرت کی بھلائی کی تلاش میں آتے ہیں۔ وہ نبی ﷺ سے نہ تو اس دنیائے فانی کی کسی شے کا سوال کرتے ہیں اور نہ مٹھی بھر مال یا غلے کا ایک صاع مانگتے ہیں، بلکہ دعا کے بارے میں پوچھنے کے لیے آتے ہیں۔ وہ نبی ﷺ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ﷺ انھیں کوئی ایسی دعا سکھا دیں، جو انھیں ان کے دین و دنیا میں فائدہ دے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایسے ہی ہوا کرتے تھے۔ وہ اللہ تعالی کے فضل اور اس کی رضا کے جویا رہا کرتے تھے۔ نبی ﷺ نے ان کی راہ نمائی اس عظیم الشان دعا کی طرف فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہو: ”اللهم“ اس میں اللہ کے اس نام سے دعا مانگی جارہی ہے اور اس کی طرف متوجہ ہوا جا رہا ہے، جو اس کے تمام اسمائے حسنی کو جامع ہے، یعنی اللہ۔ ”أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي“ 'أعوذ' یعنی میں اللہ تعالی کے ذریعے سماعت کے شر سے اپنے آپ کو بچاتا ہوں۔ اس سے مراد وہ تمام حرام باتیں ہیں، جو انسان کے کان میں پڑتی ہیں، جیسے جھوٹی گواہی، کفر و بہتان پر مشتمل کلام اور دین کی تحقیر اور وہ ساری حرام باتیں جو انسان کی سماعت سے ٹکراتی ہیں۔ ”وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي“ آنکھ کے شر سے مراد یہ ہے کہ انسان اسے حرام اشیا کو دیھکنے میں لگائے، جیسے حیا باختہ فلمیں اور برے مناظر۔ ”وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي“ یعنی زبان سے نکلنے والی ہر حرام بات سے، جیسے جھوٹی گواہی، گالی گلوج، لعنت، دین اور دین دار لوگوں کی توہین و تحقیر، لایعنی باتوں میں لگنا اور سود مند باتوں کو چھوڑنا وغیرہ۔ ”وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي“ دل کے شر سے مراد یہ ہے کہ انسان) دل کو اللہ کے ذکر کی بجائے دوسری اشیا سے آباد کرے یا پھر قلبی عبادات جیسے امید و بیم اور خوف و تعظیم کے ساتھ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کا رخ کرے یا پھر رب تعالی کے حضور جن قلبی عبادات کا بجا لانا اس پر واجب ہو انھیں ادا نہ کرے۔ "ومن شر منيي": یعنی شرم گاہ کے شر سے۔ مراد یہ کہ کسی ایسی شے میں واقع ہونے سے (اللہ کی پناہ مانگنا) جسے اللہ نے اس کے لیے حرام کیا ہو یا (پھر معنی یہ ہیں کہ) مجھے زنا کے مقدمات جیسے دیکھنا، چھونا، اس کی طرف چل کر جانا اور ارادہ کرنا وغیرہ سے محفوظ رکھ۔ اس دعا میں اعضا کی حفاظت کا سوال ہے، جو کہ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں۔ نبی ﷺ نے انھیں یہاں اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالی سے اس نعمت کے شر سے پناہ مانگیں، نہ کہ خود اس نعمت سے، بایں طور کہ وہ یوں کہیں کہ میں اللہ سے اپنی سماعت کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ کیوں کہ یہ اعضا تو نعمتیں ہیں اور انہی کے ذریعے اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ یہ کوئی شر محض نہیں کہ ان سے پناہ مانگی جائے، بلکہ پناہ تو ان سے جنم لینے والے شر سے مانگی جائے گی۔ (واضح رہے کہ) ان کی حفاظت اس طرح سے ہوتی ہے کہ ان امور کی رعایت کی جائے جن کے لیے انھیں پیدا کیا گیا ہے، ان سے نہ کوئی معصیت کا کام کیا جائے اور نہ ان کے ذریعے سے کسی برائی کو فروغ دیا جائے۔ کیوں کہ روز قیامت انسان سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، اللہ تعالی کے اس فرمان کے بمصداق کہ :﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾ ”جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو، اس کے پیچھے مت پڑ۔ کیوں کہ کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے“۔ (سورہ بنی اسرائیل: 36)

تشریح: العربية

في هذا الحديث يذهب شكل بن حميد رضي الله عنه إلى النبي صلى الله عليه وسلم باحثًا عن خيري الدنيا والآخرة، إنه لم يطلب من النبي صلى الله عليه وسلم دنيا فانية، ولا حفنة من مال، ولا صاعا من طعام، ولكنه ذهب يطلب الدعاء، يريد من النبي صلى الله عليه وسلم أن يعلمه دعاء ينتفع به في دينه ودنياه، فهذه هي حقيقة الصحابة يبتغون فضلا من الله ورضوانا، فأرشده النبي صلى الله عليه وسلم إلى هذا الدعاء العظيم الجليل، فقال له: "قل: اللهم إني": دعا الله تعالى وتوجه إليه باسمه الجامع لكل أسماء الله الحسنى "الله"، "أعوذ بك من شر سمعي": أعوذ أي: أحتمي بالله تعالى من شر السمع، وهو ما يقع فيه سمع الإنسان من المحرمات: كشهادة الزور، وكلام بالكفر والبهتان، والانتقاص من الدين وسائر ما يصل إلى سمع الإنسان من المحرمات، "ومن شر بصري": وهو أن يستعمله في النظر إلى المحرمات من الأفلام الخليعة ، والمناظر القبيحة، "ومن شر لساني": أي ومن كل محرم قد يخرج من اللسان كشهادة الزور، والسب، واللعن، والانتقاص من الدين وأهله، أو التكلم فيما لا يعني الإنسان، أو ترك الكلام فيما يعنيه، "ومن شر قلبي": وهو أن يعمر القلب بغير ذكر الله تعالى ، أو أن يتوجه إلى غير الله تعالى بالعبادات القلبية من الرجاء والخوف، والرهبة، والتعظيم، أو يترك ما يجب عليه من صرف العبادات القلبية للرب سبحانه وتعالى ، "ومن شر منيي": أي ومن شر الفرج وهو أن يقع فيما حرم الله عليه ، أو يوقعني في مقدمات الزنى من النظر، واللمس، والمشي، والعزم، وأمثال ذلك، فهذا الدعاء المبارك فيه حفظ الجوارح والتي هي من نعم الله تعالى ، والنبي صلى الله عليه وسلم إنما أمره هنا أن يستعيذ بالله من شر هذه النعم ، ولم يأمره أن يستعيذ من هذه النعم كأن يقول: "أعوذ بالله من سمعي"، لأن هذه نعم ، وبها يعبد الله تعالى ، فليست هي شر محض حتى يستعاذ منها ولكن يستعاذ من الشر الذي قد يتولد عنها، وحفظها يكون برعاية ما خلقت له، و أن لا يباشر بها معصية، ولا ينشر بها رذيلة، لأنه مسؤول يوم القيامة عن هذه النعم مصداقا لقوله تعالى : {وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا} [الإسراء: 36].

  • الحث على حفظ السمع والبصر واللسان والقلب والفرج ، وذلك باستعمالها فيما يرضي الله -تعالى-.
  • التنويه بمسؤولية الإنسان عن حواسه كما أخبر -سبحانه وتعالى-: "إن السمع والبصر والفؤاد كل أولئك كان عنه مسؤلا".
  • حواس الإنسان وأعضاؤه نعم ينبغي على العبد شكر الله -تعالى- عليها بوضعها فيما خلقت له ، وبذلك يحقق العبودية لله -سبحانه وتعالى-.
  • قول شكل بن حميد -رضي الله عنه-: "قلت: يا رسول الله، علمني دعاء" يدل على حرص الصحابة على كل ما ينفعهم في الدنيا والآخرة ، ويبين أنهم أصحاب همة عالية لمحافظتهم على ما ينفعهم في العاجل والآجل.
  • خص النبي -صلى الله عليه وسلم- هذه الجوارح بالدعاء؛ لانها مناط الشهوة ومثار اللذة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید