حدیث

رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال مبارک کے نیچے رکھتے اور پھر کہتے: ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ اے اللہ! مجھے اس دن اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن حذيفة بن اليمان رضي الله عنهما وحفصة بنت عمر بن الخطاب رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ، وَضَعَ يَدَهُ اليُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ قِني عذابك يوم تبعث عبادك». وفي رواية: أنه كان يقوله ثلاث مرات.

ترجمہ

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال مبارک کے نیچے رکھتے اور پھر کہتے: ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ اے اللہ! مجھے اس دن اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ایسا تین دفعہ کہا کرتے تھے۔

تشریح

اس حدیث میں نبی ﷺ کی سنتوں میں سے ایک فعلی اور قولی سنت کا بیان ہے اور دونوں سنتیں نیند سے متعلق سنتوں میں سے ہیں۔فعلی سنت: اس سے مراد وہ ہیئت ہے جس پر نبی ﷺ سویا کرتے تھے۔حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی ﷺ کے سونے کے انداز کے بارے میں بتایا کہ آپ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھ لیا کرتے تھے۔ اس میں آپ ﷺ کے دائیں پہلو پر سونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ جب اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار تلے رکھتے تھے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ لامحالہ اپنے دائیں پہلو پر سوتے تھے اور دیگر روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں(کہ آپ ﷺ دائیں پہلو پر سویا کرتے تھے)۔ تاہم اس حدیث میں ایک بات زائد ہے کہ آپ ﷺ رخسار تلے اپنا ہاتھ رکھا کرتے تھے۔چنانچہ جو شخص ایسا کرسکتا ہو وہ آپ ﷺ کی پیروی میں ایسا کرے اور جو شخص دائیں پہلو کے بل لیٹنے پر اکتفاء کر لے تو یہ بھی اس کے لیے کافی ہو گا کیونکہ بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ ﷺ اپنے دائیں پہلو پر سویا کرتے تھے اور ان میں رخسار کے نیچے ہاتھ رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ شاید نبی ﷺ ایسا بعض اوقات کیا کرتے تھے۔ اس کی طرف اشارہ اس بات سے ہوتا ہے کہ کچھ صحابہ نے اسے ذکر کیا ہے اور بعض نے اسے ذکر نہیں کیا۔ تاہم تمام روایات کا دائیں پہلو کے بل سونے پر اتفاق ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی عین سنت ہے۔ ”پھر آپ ﷺ فرماتے“ یہاں ثم کا لفظ ترتیب اور تراخی پر دلالت کرتا ہے اور یہ اس شخص کی حالت سے مناسبت رکھتا ہے جس کا سونے کا ارادہ ہو۔ ایسا شخص پہلے اپنے داہنے پہلو پر لیٹے گا اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گال کے نیچے رکھے گا پھر اس کے بعد دعا پڑھے گا۔ یہ شرط نہیں ہے کہ انسان لیٹنے کے فورا بعد یہ دعا کرے کیونکہ ”ثم“ کا لفظ تاخیر پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ اگر انسان اپنی بیوی کے ساتھ بات چیت کرتا رہے اور پھر اس کے بعد دعا پڑھے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ یعنی قیامت کے دن مجھے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ لفظ ”قنی“ میں اللہ کے فضل و احسان کی بدولت حفاظت کا معنی ہے یا یہ لفظ بندے کو ایسے فعل کی توفیق دینے پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے اور عذاب سے نجات مل جاتی ہے۔ کیونکہ اصل عموم ہی ہوتا ہے اور تخصیص کی طرف صرف اسی وقت جایا جاتا ہے جب کوئی دلیل ہو اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ لفظ دونوں ہی معانی کا احاطہ کرتا ہے۔ " عذابك "۔ یہ عذاب کی تمام اقسام کو شامل ہے۔ اس میں جہنم کا عذاب بدرجہ اول داخل ہے۔ تاہم اس دن کو اللہ نے القارعة، الصاخة، الطامة اور القیامۃ جیسے ناموں سے موسوم کیا ہے۔ اور یہ بات اس کی ہولناکی اور سختی پر دلالت کرتی ہے چنانچہ مناسب یہ ہے کہ اللہ سے اس دن کے عذاب سے نجات کی دعا کی جائے۔ ”عذابك“ اس میں نبی ﷺ نے عذاب کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی تاکہ اس سے اس کی ہولناکی، شدت او عظمت کی نشاندہی ہو سکے۔ اسی طرح اس میں سپردگی کا معنی بھی ہے کیونکہ بندوں میں صرف اللہ ہی کا اختیارِ تصرف چلتا ہے اور اس عذاب پر اس غالب و مالک کا تصرف ہے۔ لفظ دونوں ہی معانی (عذاب کی سختی اورسپردگی) کو شامل ہے۔ اس لطیف مناسبت پر غور کریں جو نیند جو کہ موت کی بہن یا چھوٹی موت ہے اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے مابین ہے۔ حدیث میں شے (موت) اور اس کے تابع (بعث بعد الموت) کے مابین بہت ہی لطیف اور باریک قسم کی مناسبت کا بیان ہے اور یہ بات نبی ﷺ کے الفاظ کی عظمت و جمال کی دلیل ہے۔

تشریح: العربية

هذا الحديث يتناول سنة فعلية وقولية من سنن النبي صلى الله عليه وسلم ، وكلا السنتين من سنن النوم. فالسنة الفعلية هي هيئة نوم النبي صلى الله عليه وسلم ، فقد وصف لنا حذيفة رضي الله عنه هيئة نوم رسول الله فقال: "كان إذا أراد أن يرقد وضع يده اليمنى تحت خده" فيه دليل على نوم النبي صلى الله عليه وسلم على جنبه الأيمن، لأنه إذا وضع يده اليمنى تحت خده كان نائمًا على جنبه الأيمن لا محالة، ويدل على ذلك الروايات الأخرى. ولكن هذا الحديث زاد وضع اليد تحت الخد، فمن قدر على فعله فعله تأسيًا، ومن اكتفى بالنوم على الشق الأيمن فإنه يكفيه، ويدل على ذلك أن بعض الروايات إنما وردت بنومه صلى الله عليه وسلم على جنبه الأيمن بدون ذكر وضع اليد تحت الخد، فلربما كان يفعله النبي صلى الله عليه وسلم أحيانًا، ويشير إليه ذكر بعض الصحابة له وعدم ذكر البعض الآخر، ولكن جميع الروايات اتفقت على النوم على الشق الأيمن فدل على أنّ هذا هو السنة المتعينة. "ثم يقول" ثم تدل على الترتيب والتراخي، وهو الملائم لحال من أراد النوم، فكان يضطجع أولا على شقه الأيمن، ويضع يده اليمنى تحت خده الأيمن، ثم يقول الذكر بعد ذلك ولا يشترط أن يقول الإنسان هذا الذكر مباشرة عقب الاضطجاع لأن "ثم" تدل على التراخي، فلو تكلم الإنسان مع زوجته ثم قال الذكر بعد ذلك فلا بأس. "اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك" احفظني من العذاب يوم البعث، ولفظ "قني" يشمل الوقاية من الله تفضلا وإحسانًا، وتوفيق العبد لفعل ما يوجب الجنة والنجاة من العذاب؛ لأن العموم هو الأصل ولا يصار للتخصيص إلا لدليل، واللفظ يستوعب المعنيين. وقوله "عذابك" يعم كل ألوان عذاب ذلك اليوم، ويدخل فيه عذاب النار دخولًا أوليًّا، وهذا اليوم سماه الله تعالى بيوم القارعة والصاخة والطامة والقيامة، مما يدل على هوله وشدته فكان المناسب دعاء الله تعالى النجاة من عذاب هذا اليوم، وقوله "عذابك" أضاف العذاب إلى الله تعالى ليدل على هوله وشدته وعظمته، وأيضًا فيه معنى التفويض إذ الرب سبحانه هو المتصرف في العبيد، وفي هذا العذاب تصرف المالك المسيطر، واللفظ يشمل المعنيين. وانظر إلى المناسبة اللطيفة بين النوم الذي هو أخو الموت أو الموتة الصغرى والبعث الذي يعقب الموت، فالحديث فيه مناسبة لطيفة دقيقة تجمع بين الشيء وتابعه، وهذا من جلال وجمال ألفاظ النبي صلى الله عليه وسلم .

  • فضل هذا الدعاء المبارك، واستحباب المحافظة عليه اقتداء بالنبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • استحباب الاضطجاع على الشق الأيمن.
  • تواضع النبي -صلى الله عليه وسلم- لربه ومولاه -تعالى-، وفيه تنبيه للأمة أن لا يأمنوا مكر الله -تعالى-؛ فإنه لا يأمن مكر الله إلا القوم الخاسرون.
  • إثبات الحشر والمعاد، وأن الناس راجعون إلى ربهم ليحاسبهم على أعمالهم، فمن وجد خيرًا فليحمد الله -تعالى-، ومن وجد دون ذلك فلا يلومن إلا نفسه، وإنما هي أعمال العباد يحصيها الله عليهم.
  • حرص الصحابة -رضي الله عنهم- على بيان أحوال النبي -صلى الله عليه وسلم- في رقوده.
  • قوله: "وضع يده اليمنى تحت خده" وهو من عادته -صلى الله عليه وسلم- التيمن في كل شيء إلا ما ورد الدليل على خلافه.
  • النوم على الشق الأيمن أسرع إلى الانتباه لعدم استقرار القلب في تلك الحالة، وأهنأ للقلب لأنه في الجهة اليسرى فلو نام العبد على الجهة اليسرى يضر بالقلب لميل الأعضاء عليه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید