ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُفطِر قبْل أن يصلي على رُطَبات، فإن لم تكنْ رُطَباتٌ فَتُمَيْراتٌ، فإن لم تكنْ تُمَيْراتٌ، حَسَا حَسَواتٍ مِن ماء.
ترجمہ
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز (مغرب) ادا کرنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں، تو چند خشک کھجوروں سے اور اگر خشک کھجوریں بھی میسر نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔
تشریح
انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس حدیث میں یہ خبر دے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب روزہ سے ہوتے، تو نماز مغرب سے قبل چند تر کھجوروں سے افطار فرمایا کرتے تھے۔ اگر تر کھجور میسر نہ ہوتیں، تو خشک کھجور سے افطار فرماتے اور اگر وہ بھی میسر نہ ہوتیں، تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ کھجور اور پانی سے روزہ افطار کرنے میں رسول اللہ ﷺ کی اختیار کردہ ترتیب نہایت موزوں اور مناسب ہے؛ اس لیے کہ روزے دار کا معدہ خالی ہوتا ہے۔ چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ مرغن عذا سے کھانے کی شروعات نہ کرے؛ تاکہ وہ کسی ضرر و نقصان کا شکار نہ ہونے پائے۔
تشریح: العربية
يخبر أنس رضي الله عنه في هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفطر -إذا كان صائماً-، على رطبات قبل أن يصلي المغرب، فإن لم يجد رطبات، فإنه يفطر على تمرات، فإن لم تكن عنده تمرات، شرب شربات من ماء، وبدايته -عليه الصلاة والسلام- بالتمر أو الماء مناسب لأن الصائم تكون معدته خالية فلا يبدأ بالطعام الدسم لئلا يتضرر.
- يستحب للصائم أن يفطر على رطبات وتراً، فإن لم يجد فعلى تمرات، فإن لم يجد فعلى الماء، مع مراعاة الترتيب.
- التزام سنة النبي -صلى الله عليه وسلم- فيه الخير الكثير، وقد ثبتت الحكمة من الإفطار على الرطب والتمر، فمن ذلك أنه يزيل فضلات المعدة، كما أن فيه كل العناصر الغذائية التي يحتاجها الجسم.