ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ یقینا شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے جہاں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھروں کو نماز سے خالی رکھنے سے منع کیا ہے کہ وہ قبرستان کی طرح ہو جائیں، جہاں نماز نہيں پڑھی جاتی۔ پھر آپ نے بتایا کہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے، جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔
فوائد
- گھروں میں زیادہ سے زیادہ عبادتیں کرنا اور نفل نماز پڑھنا مستحب ہے۔
- قبرستان میں نماز پڑھنا جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ اس سے شرک اور قبروں میں دفن لوگوں کے بارے میں غلو کے دروازے کھلتے ہيں۔ لیکن جنازے کی نماز اس سے مستثنی ہے۔
- چوں کہ قبروں کے پاس نماز نہ پڑھنے کی بات صحابہ کے یہاں ایک مسلمہ حقیقت تھی، اس لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ گھروں کو قبرستان کی طرح نہ بناؤ کہ ان کے اندر نماز نہ پڑھی جائے۔
تشریح: العربية
يَنْهَى النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن تعطيلِ البيوت من الصلاة فتكون كالمقابر التي لا يصلى فيها. ثم أخبر صلى الله عليه وسلم أنَّ الشيطانَ يَنْفِرُ من البيت الذي تُقرأُ فيه سورةُ البقرة.
- استحباب الإكثار من العبادات وصلاة النافلة في البيوت.
- لا يجوز الصلاة في المقابر؛ لأنها وسيلة من وسائل الشرك والغلو في أصحابها، ما عدا صلاة الجنازة.
- النهي عن الصلاة عند القبور قد تَقَرَّر عند الصحابة، ولذلك نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن تُجعل البيوت مثل المقابر لا يُصلّى فيها.