ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس رضي الله عنه قَالَ: لَمَّا جَاءَ أهْلُ اليَمَنِ، قَالَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم : "قَدْ جَاءكُمْ أهْلُ اليَمَنِ" وَهُمْ أوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالمُصَافَحَة.
ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یمن والے آئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں‘‘، اور یہی وہ لوگ ہیں جو پہلے پہل مصافحہ کرنے کا طریقہ لائے۔
تشریح
آپ ﷺ کا فرمان: ”تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں“ یہ اہلِ یمن کی شان کو بلند کرنا اور ان کی فضیلت کو ظاہر کرنا ہے۔ انہی میں سے اشعری لوگ بھی ہیں جو کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے قبیلہ کے لوگ ہیں۔ اس فضیلت کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جسے امام احمد نے اپنی مسند (3/155) میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کل تمہارے پاس ایسے لوگ آئیں گے جن کے دل اسلام کے لیے تم سے زیادہ نرم ہوں گے“۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چنانچہ اشعری لوگ آئے، ان میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب وہ لوگ مدینہ طیبہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے: غداً نلقى الأحبه ...محمداً وحزبه یعنی کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔ جب یہ لوگ آئے تو انہوں نے مصافحہ کیا۔ چنانچہ یہی وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے مصافحہ کا رواج ڈالا۔
تشریح: العربية
قوله: "قد جاءكم أهل اليمن" تنويه بشأنهم، وإظهار لفضلهم، ومنهم الأشعريون قوم أبي موسى الأشعري رضي الله عنهم ، ويدل عليه ما أخرجه أحمد في مسنده (3/155) عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يقدم عليكم غداً أقوام هم أرق قلوباً للإسلام منكم" قال: فقدم الأشعريون فيهم أبو موسى الأشعري، فلما دنوا من المدينة جعلوا يرتجزون يقولون: غداً نلقى الأحبه محمداً وحزبه فلما أن قدموا تصافحوا فكانوا هم أول من أحدث المصافحة.
- مشروعية المصافحة بتقرير النبي –صلى الله عليه وسلم-.
- استحباب ذكر المسلم ما فيه من خصال الخير ليتأسى به.
- ينبغي على المسلم أن ينسب الفضل لأهله.
- أول من أظهر المصافحة في الناس أهل اليمن.