ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنِ الْبَرَاءِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا».
ترجمہ
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے: "جب دو مسلمان آپس ميں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہيں، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے"۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب دو مسلمان کسی راستے وغیرہ میں ملتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں مصافحہ کرتے ہوئے، تو دونوں کے الگ ہونے سے پہلے پہلے ان کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہيں۔ یاد رہے کہ یہاں الگ ہونے سے مراد جسمانی طور پر الگ ہونا بھی ہو سکتا ہے اور مصافحہ سے فارغ ہونا بھی۔
فوائد
- ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا مستحب عمل ہے اور اس کی ترغیب دى گئى ہے۔
- مناوی کہتے ہيں: سنت یہ ہے کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو دائيں ہاتھ کو دائيں ہاتھ پر رکھا جائے۔
- سلام کو عام کرنے کی ترغیب اور ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان بھائی سے مصافحہ کرنے کے عظیم اجر و ثواب کا بیان۔
- اس حدیث سے حرام مصافحہ مستثنی ہے۔ جیسے کسی اجبنی عورت سے مصافحہ کرنا۔
تشریح: العربية
أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم: أنه ما مِن مُسلِمَين يتلاقَيَان في طريق ونحوه فيُسلِّم أحدُهما على الآخر مُصَافَحَةً باليد إلا غُفِرَ لهما قبل أن يَفْتَرِقَا بالأبدان أو بالفراغ عن المصافحة.
- استحباب المصافحة عند اللقاء، والحث عليها.
- قال المناوي: ولا تحصل السنة إلا بوضع اليمنى في اليمنى حيث لا عُذْر.
- الحث على إفشاء السلام، وبيان عظيم أجر مصافحة المسلم لأخيه المسلم.
- يستثنى من الحديث المصافحة المُحرَّمة، كمصافحة المرأة الأجنبية.