حدیث

جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپالیا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ سُئِلَ عن عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يوم القيامةِ بِلِجَامٍ مِنْ نارٍ».

ترجمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپالیا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی“۔

تشریح

اس حدیث میں علم کو چھپانے پر سخت ترین تنبیہ وارد ہوئی ہے۔ جس شخص سے کوئی علمی مسئلہ دریافت کیا گیا اور دریافت کنندہ کو اس علمی مسئلہ سے واقفیت حاصل کرنے کی دینی ضرورت ہو، تو مسئول پر لازم ہے کہ وہ اس مسئلے کی وضاحت کرے، لیکن اگر اس نے جواب نہ کر یا نہ لکھ کر اس مسئلے کی وضاحت نہہیں کی، تو جیسے کو تیسا کے مطابق، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈال دے گا۔ جس طرح اس نے جواب نہ دیتے ہوئے اپنےمنہ پر لگام لگا رکھی تھی۔ یقینا بدلہ عمل کی جنس سے ہی ملے گا۔ اس حدیث میں وارد وعید کے مستحق وہ لوگ ہوں گے، جو اس بات سے واقف ہو ں کہ سائل اپنے سوال سے رشد و ہدایت کا طلب گار ہے، لیکن جب مسئول کو پتہ چل جائے کہ سائل کا مقصد اس کا امتحان ہے، اس کا مقصد علم حاصل کرکے اس پر عمل کرنا نہیں ہے، تو مسئول کو اختیار ہےکہ چاہے تو اس کے سوال کا جواب دے یا نہ دے۔ ایسا شخص اس حدیث میں وارد وعید کا سزاوار نہ ہو گا۔

تشریح: العربية

هذا الحديث فيه التحذير الشديد من كتمان العلم، وأن من سُئل عن علم يحتاج إليه السائل في أمر دينه، ويلزم المسؤول عنه بيانه، فلم يبيِّن ذلك العلم بعدم الجواب، أو بمنع الكتاب، عاقبه الله تعالى يوم القيامة بأن يدخل في فمه لجاما من نار؛ مكافأة له حيث ألجم نفسه بالسكوت، والجزاء من جنس العمل، والوعيد في هذا الحديث يلحق من عَلم أن السائل يسأل للاسترشاد، أما إذا علم من السائل أنه يسأل امتحاناً وليس بقصد أن يسترشد فيعلم ويعمل، فالمسؤول بالخيار بين الإجابة وعدمها، ولا يلحقه الوعيد الوارد في الحديث.

  • كتمان العلم من الكبائر التي يستحق عليها الوعيد الشديد.
  • وجوب تبليغ العلم إذا كان متعينًا، وخاصة في أمور الدين.
  • أن الجزاء من جنس العمل حيث عوقب من وجب عليه تبليغ العلم, فأمسك فمه عن بيان الحق في الدنيا, بأن يُدخل في فمه لجام من نار يوم القيامة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید