ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي مسعود رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ».
ترجمہ
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں رات میں پڑھ لیں، اس کے لیے یہ دو آیتیں کافی ہو جاتی ہیں۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے رات کے وقت سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں، تو اللہ اسے برائی اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ کچھ علماء اس حدیث کا مطلب یہ بتاتے ہيں یہ دونوں آیتیں اس کے لیے تہجد کی نماز کے بدلے میں کافی ہو جاتی ہیں۔ جب کہ کچھ علماء مطلب یہ بتاتے ہيں کہ یہ دونوں آیتیں دیگر اذکار کے بدلے میں کافی ہو جاتی ہیں۔ کچھ علماء مطلب یہ بتاتے ہیں کہ رات کی نماز میں کم سے کم ان دو آیتوں کو پڑھ لینا ہی کافی ہے۔ اس کے کچھ اور بھی مطالب بیان کیے گئے ہيں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اوپر کہی گئی ساری باتیں صحیح ہوں حدیث کے الفاظ ان سارى باتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوں۔
فوائد
- سورۂ بقرہ کی آخری آیتوں کی فضیلت۔ یہ آخری آیتیں اس طرح ہیں : {آمَنَ ٱلرَّسُولُ..} (رسول ایمان ﻻیا...) سورت کے اخیر تک۔
- سورہ بقرہ کی آخری آیتوں کو رات میں پڑھنے سے انسان برائی اور شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔
- رات سورج ڈوبنے کے بعد سے شروع ہوتی ہے اور طلوع فجر تک رہتی ہے۔
تشریح: العربية
أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن قَرأ الآيتين الأخيرتين من سورة البقرة في الليل فإنَّ الله يكفيه الشر والمكروه، وقيل: تكفيه عن قيام الليل، وقيل: تكفيه عن سائر الأوراد، وقيل: إنهما أقلُّ ما يجزىء من قراءة القرآن في قيام الليل، وقيل غير ذلك، ولعل كلَّ ما ذُكِرَ صحيح يَشملُه اللفظ.
- بيان فضل أواخر سورة البقرة، وهي من قوله تعالى : (آمن الرسول ...) إلى آخر السورة.
- أواخر سورة البقرة تدفع عن صاحبها السوءَ والشرَّ والشيطانَ إذا قرأها من الليل.
- الليلة تبدأ بغروب الشمس، وتنتهي بطلوع الفجر.