ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَن عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنهما أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، كَقَلْبٍ وَاحِدٍ، يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ».
ترجمہ
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "بنی آدم کے تمام دل رحمن کی دو انگلیوں کے درمیان ایسے ہیں، جیسے وہ سب ایک ہی دل ہوں۔ وہ جیسے چاہتا ہے ان کو پلٹتا رہتا ہے"۔ پھر آپ ﷺ نے یہ دعا کی: (اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیرے رکھ"۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ تمام بنی آدم کے دل رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں۔ انھیں وہ جیسے چاہتا ہے پھیرتا ہے۔ اگر چاہے تو حق پر قائم رکھے اور چاہے تو حق سے پھیر دے۔ اس کے لیے تمام دلوں میں تصرف کرنا بس ایک ہی دل میں تصرف کرنے کی طرح ہے۔ ایسا نہيں کہ ایک میں تصرف کی وجہ سے دوسرے سے غافل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا فرماتے ہوئے کہا: اے اللہ! دلوں کو کبھی نیکی کی طرف، کبھی بدی کی طرف اور کبھی غفلت کی طرف پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔
فوائد
- تقدیر کا اثبات۔ دراصل اللہ بندوں کے دلوں کو ان کے حق میں لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق مختلف رخ دیتا رہتا ہے۔
- ایک مسلمان کو ہمیشہ اپنے رب سے حق اور ہدایت پر قائم رہنے کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔
- صرف ایک اللہ سے ڈرنا چاہیے اور اسی سے تعلق قائم رکھنا چاہیے۔
- آجری کہتے ہيں: اہل حق اللہ عز و جل کے وہی اوصاف بیان کرتے ہیں جو خود اللہ تبارک و تعالی اپنے لیے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے اللہ کے لیے بیان کیے ہیں۔ یہی اتباع سنت کے علم بردار اور بدعت سے گریزاں رہنے والے علما کا مسلک ہے۔ اہل سنت اللہ تبارک و تعالی کے انھیں اسما وصفات کو ثابت کرتے ہیں جنھیں خود اللہ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے، بغير كسی تحریف، تعطلیل، تکییف اور تمثیل کے۔ اللہ کی ذات سے ان اسما وصفات کی نفی کرتے ہیں، جن کی نفی اس نے خود کی ہے اور جن اسما وصفات کے بارے میں نفی واثبات وارد نہ ہوا ہو، ان کے بارے میں خاموش رہتے ہيں۔ اللہ تعالی نے کہا: "اس کے جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے"۔
تشریح: العربية
أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أن قلوب بني آدم كلَّها بين إصبعين من أصابع الرحمن كقلب واحد؛ يُصَرِّفُه حيث يشاء؛ إن شاء أقامه على الحق، وإن شاء أَزَاغَه عن الحق، وتَصَرُّفُه في جميع القلوب كالتصرُّف في واحد لا يشغله سبحانه شَأنٌ عن شأنٍ، ثم دعا صلى الله عليه وسلم فقال: اللهم مُصَرِّفَ القلوبِ تارةً إلى الطاعة وتارةً إلى المعصية، وتارة إلى الذكر وتارة إلى الغفلة، صَرِّفْ قلوبَنا على طاعتك.
- إثبات القَدَر، وأن الله يوجِّه قلوبَ عبادِه حسب القدر الذي كتبه عليهم.
- ينبغي على المسلم إدامة سؤال ربه الثبات على الحق والهدى.
- الخوف من الله والتَّعَلُّق به وحده لا شريك له.
- قال الآجري: إن أهل الحق يَصِفُوْن الله عز وجل بما وصف به نفسه عز وجل، وبما وصفه به رسوله صلى الله عليه وسلم، وبما وصفه به الصحابة رضي الله عنهم، وهذا مذهب العلماء ممن اتبع ولم يَبتدِع. انتهى. فأهل السنة يُثْبِتُوْن لله ما أثبته لنفسه من الأسماء والصفات من غير تحريف ولا تعطيل ولا تكييف ولا تمثيل، ويَنْفُون عن الله ما نفاه عن نفسه، ويَسكتون عما لم يَرِدْ به نفيٌ ولا إثبات، قال الله تعالى: (لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ).