حدیث

لوگوں کے اندر پائی جانے والی دو باتیں کفر کی باتیں ہیں : حسب و نسب پر طعنہ کسنا اور میت پر نوحہ کرنا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ: الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "لوگوں کے اندر پائی جانے والی دو باتیں کفر کی باتیں ہیں : حسب و نسب پر طعنہ کسنا اور میت پر نوحہ کرنا۔"

تشریح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ لوگوں کے اندر پائی جانے والی دو باتوں کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ وہ دراصل کفر کے اعمال اور جاہلیت کے اخلاق ہیں۔ یہ دونوں اعمال ہیں : 1- لوگوں کے نسب پر طعنہ کسنا، کمیاں نکالنا اور ان پر اپنا بڑکپن دکھانا۔ 2- مصیبت کے وقت تقدیر سے بیزار ہوکر اونچی آواز سے رونا یا جزع فزع کرتے ہوئے کپڑے پھاڑنا۔

فوائد

  • تواضع اختیار کرنے اور غرور سے اجتناب کرنے کی ترغیب۔
  • مصیبت کے وقت صبر سے کام لینے اور ناراضگی کا اظہار نہ کرنے ضرورت۔
  • مذکورہ اعمال کا تعلق کفر اصغر سے ہے۔ اور جس کے اندر کفر اصغر کى کوئى خصلت پائى جائے تو وہ کافر اور ملت سے خارج نہیں ہوجاتا ہے, ایسا صرف کفر اکبر کى بنا پر ہوتا ہے۔
  • اسلام نے نسب پر طعنہ کسنے اور اس قسم کے تمام اعمال سے روکا ہے، جو مسلمانوں کے اندر تفرقہ ڈالتے ہیں۔
تشریح: العربية

يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن خصلَتَين في الناس من أعمال الكفار، وأخلاق الجاهلية، وهما: الأولى: الطَّعْن بأنساب الناس وتَنَقُّصُهم والتكبُّر عليهم. الثانية: رفع الصوت عند المصيبة تَسَخُّطًا على القَدَر، أو قطع الثياب من شِدّة الجَزَع.

  • الحثُّ على التواضع وعدَم التكبُّر على الناس.
  • وجوب الصبر على المصيبة وعدم التسخُّط.
  • هذه الأعمال من الكُفْر الأصغر، وليس مَن قام به شُعْبةٌ من شُعَب الكُفْر يكون كافرًا الكفر المُخْرِج من المِلّة حتى يقومَ به الكفرُ الأكبر.
  • نهي الإسلام عن كلِّ ما يؤدِّي إلى الفُرْقَة بين المسلمين من الطعن في الأنساب وغيرها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید