ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال : جِيءَ بأبي إلى النبي صلى الله عليه وسلم قد مُثِّل به، فوُضِع بين يديه؛ فذهبت أكشف عن وجهه فنهاني قومي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «ما زالت الملائكة تظله بأجنحتها».
ترجمہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: میرے والد (کی لاش) کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اس حال میں کہ ان کا مثلہ کردیا گیا تھا۔ انہیں آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا گیا۔ میں نے ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانا چاہا تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے منع کردیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ابھی تک فرشتے ان پر اپنے پروں سے سایہ کئے ہوئے ہیں“۔
تشریح
جابر رضی اللہ عنہ کے والد یعنی عبداللہ بن عمرو بن حرام انصاری جابر بن عبداللہ - رضی اللہ عنہما - (کی لاش) کو جنگ احد کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا۔ کفار نے مسلمانوں کے مقتولین کے جسموں کو بگاڑ کر ان کا مثلہ کر دیا تھا۔ انہیں آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا گیا۔ کفار نے ان کا جو مثلہ کیا تھا اس پر دکھی ہو کر جابر رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ وہ ان کے چہرے سے کپڑا ہٹائیں لیکن ان کی قوم والوں نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ نبی ﷺ نے اس موقع پر فرمایا: فرشتوں نے ان کی تعظیم و تکریم میں ابھی تک ان پر اپنے پروں سے سایہ کر رکھا ہے۔
تشریح: العربية
جيء بوالد جابر وهو عبد الله بن عمرو بن حرام الأنصاري رضي الله عنه إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، وذلك يوم أحد وقد مثل الكفار بقتلى المسلمين، بتشويه أجسامهم، فوضع بين يديه فأراد جابر أن يكشف عن وجهه متوجعاً له مما مثل به الكفار فنهاه قومه عن ذلك فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "ما زالت الملائكة تظله بأجنحتها" تشريفاً له وتكريماً.
- بيان فضل عبد الله بن عمرو بن حرام والد جابر -رضي الله عنهما-.
- أنَّ الله اختار لنبيه صلى الله عليه وسلم أفضل الخَلْق.
- للشهيد مكانة خاصة عند الله.
- لا يشترط لكل أحد من أهل الميت النظر إليه خاصة إذا خشي عليه.
- أنَّ من أساليب الدعوة الترغيب.