ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما مرفوعاً: «ما من غازيَةٍ أو سَرِيَّةٍ تغزو فَتَغْنَم وَتَسْلَمُ إلا كانوا قد تَعَجَّلُوا ثُلُثَي أُجُورِهِمْ، ومَا من غَازِيَةٍ أَوْ سَرِيَّةٍ تُخْفِقُ وَتُصَابُ إِلاَّ تم أُجُورُهُمْ».
ترجمہ
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور مال غنیمت لے کر صحیح و سالم واپس آگیا اس کو اس کا دو تہائی اجر جلدی (یعنی اسی دنیا میں ) مل گیا اور جہاد کرنے والی جس جماعت یا لشکر نے جہاد کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کو مال غنیمت نہیں ملا بلکہ اس جماعت و لشکر کے لوگ زخمی ہوئے یا شہید کر دیے گیے تو ان کا پورا اجر باقی رہا“۔
تشریح
حدیث میں دو احتمال ہیں: پہلا احتمال: ہر وہ لشکر جس کی دشمنوں سے جنگ ہوئی اور وہ اس میں بچا رہا اور مال غنیمت بھی حاصل کیا تو اس کا اجر اس لشکر سے کم ہوگا جو صحیح سالم نہیں رہا یا اگرصحیح سالم رہا بھی تو اسے مال غنیمت حاصل نہ ہوا۔ امام نووی نے اسی احتمال کو ترجیح دی ہے۔ دوسرا احتمال: یہ حدیث غنیمت کے حلال ہونے اور اس بات کی دلیل ہے تاہم اس سے اجر میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ بس اس میں ہوتا یہ ہے کہ اجر کا کچھ حصہ جلدی مل جاتا ہے۔ باقی مال غنیمت حاصل کرنے والے یا حاصل نہ کرنے والے دونوں برابر ہیں تاہم مال غنیمت پانے والے کو اس کا دو تہائی اجر جلدی مل جاتا ہے جب کہ کل کے اعتبار سے وہ دونوں برابر ہیں۔ اللہ تعالی اس شخص کو جسے مال غنیمت نہیں ملتا اسے اتنا اجر بطور عوض عطا فرمائے گا جتنی مقدار میں وہ غنیمت سے محروم رہا ہوگا اور اللہ جسے چاہتا ہے بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔ ابن عبد البر رحمہ اللہ کی یہی رائے ہے۔
تشریح: العربية
للحديث احتمالان: الأول: أن كل سَرِيَّة قاتلت الأعداء ثم سلمت منهم وغنمت فإن أجرها أقلّ من سرية أخرى لم تَسلم، أو سلمت ولم تَغْنم، كما رجحه النووي رحمه الله. الثاني: الحديث دليل على حل الغنيمة وليست منقصة للأجر، إنما فيه تعجيل بعض الأجر مع التسوية فيه للغانم وغير الغانم إلا أن الغانم عجل له ثلثا أجره وهما مستويان في جملته وقد عوض الله من لم يغنم في الآخرة بمقدار ما فاته من الغنيمة والله يضاعف لمن يشاء، كما قال ابن عبد البر رحمه الله.
- فضل المشاركة والخروج للغزو في سبيل الله.
- الحث على بذل الجهد والحرص على الشهادة أو النصر.