ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عقبة بن عامر رضي الله عنه مرفوعاً: «من عَلِمَ الرمي، ثم تركه، فليس منا، أو فقد عصى».
ترجمہ
عقبہ ابن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے تیر اندازی کا فن سیکھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا، وہ ہم میں سے نہیں،یا (فرمایا:) اس نے یقیناً نافرمانی کی“۔
تشریح
حدیث کا مفہوم: جس نے تیراندازی یا پھر جدید آلات جنگ جیسے بندوق وغیرہ کے ذریعے سے نشانہ بازی سیکھی اور پھر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اس سلسلے میں لاپرواہی برتی تو اس نے اپنے آپ کو گناہ میں ملوث کردیا اور نبیﷺ کی سنت سے دور ہوگیا۔ ”وہ ہم میں سے نہیں ہے“ یعنی وہ ہمارے طرزِعمل اور ہمارے طریقے پر قائم نہیں ہے۔ ”یا اس نے نافرمانی کی“ راوی کو اس میں شک ہے کہ آپ ﷺ نے وہ ہم میں سے نہیں ہے کہا تھا یا پھر اس نے نافرمانی کی کہا تھا۔
تشریح: العربية
أن من تعلم الرمي بالسهام ومثله الرمي بآلات الجهاد الحديثة كالرصاص، ثم تركه وأهمله، فقد عرض نفسه للإثم والبعد عن الهدي النبوي "فليس منا"، أي: ليس من أهل هدينا وسنتنا. "أو قد عصى" وهذا شك من الراوي، هل قال صلى الله عليه وسلم : "فليس منا أو فقد عصى".
- التشديد العظيم في نسيان الرمي بعد تعلمه؛ بغير عذر.
- فنون القتال وأساليب الحرب واستعمال الأسلحة لا تتقن إلا بالتعلم.
- الأمة الإسلامية حذرة يقظة، فمن غفل أو تغافل؛ فقد اتبع غير سبيل المؤمنين.