حدیث

عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمان کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ ﷺنے فرمایا : ’’تم عورتوں کا جہاد حج ہے"

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها قالت: استأذنت النبي صلى الله عليه وسلم في الجهاد، فقال: «جهادكن الحج».

ترجمہ

اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی، تو آپ ﷺنے فرمایا : "تم عورتوں کا جہاد حج ہے"۔

تشریح

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے جہاد کی فضیلت کے پیش نظر، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے آپ کی معیت میں جہاد کرنے کی اجازت طلب کی، تو آپ نے واضح انداز میں بتا دیا کہ جہاد اور دشمنوں سے جنگ کرنا عورتوں کے حق میں مشروع نہیں ہے، کیونکہ عام طور سے عورتیں نازک اندام اور نرم دل ہوتی ہیں اور ان کے اندر خطروں کو جھیلنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں میدان جنگ میں زخمیوں کا علاج، پیاسوں کو پانی پلانا اور اس طرح کے دوسرے کام بھی نہیں کر سکتیں، کیونکہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سات غزوات میں شریک رہی۔ میں ان کے جانے کے بعد قیام گاہ میں رہتی، ان کے لیے کھانا بناتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور مریضوں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے فرمایا کہ ان کا جہاد حج میں ہوتا ہے۔ حج اور عمرہ کو جہاد سے تشبیہ اس بنا پر دی گئی ہے کہ دونوں میں سفر کرنا پڑتا ہے، وطن سے دور رہنا ہوتا ہے، اہل و عیال سے الگ رہنا پڑتا ہے، سفر کی صعوبتیں جھیلنا پڑتی ہیں، تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے اور مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حنین کے دن ایک خنجر اٹھایا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ میں نے اسے اس لیے اٹھا رکھا ہے کہ اگر کسی مشرک نے میرے پاس آنے کی کوشش کی، تو اس کا پیٹ چیر دوں گی۔ یہ حدیث عورت کے جنگ کرنے کی دلیل ہے، اگرچہ اس میں اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ صرف اپنے بچاو کے لیے لڑنا چاہتی تھیں اور ان کا ارادہ دشمن کی صف میں گھس کر دو دو ہاتھ کرنے کا نہیں تھا۔

تشریح: العربية

عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها أنها طلبت من النبي صلى الله عليه وسلم أن يأذن لها أن تجاهد معه طلبًا لفضل الجهاد، فبين النبي صلى الله عليه وسلم أن مباشرة الجهاد وقتال الأعداء ليست مشروعة في حق النساء؛ لما يتصفن به غالبًا من ضعف البدن، ورِقة القلب، وعدم تحمل الأخطار، ولا يمنع ذلك قيامهن بعلاج الجرحى، وسقي العطشى، ونحو ذلك من الأعمال. فقد جاء في الصحيح من حديث أم عطية رضي الله عنها قالت: غزوت مع رسول صلى الله عليه وسلم سبع غزوات، أخلفهم في رحالهم، فأصنع لهم الطعام، وأُداوي الجرحى، وأقوم على المرضى. وقال بأن جهادهن يكون في الحج، و تشبيه الحج والعمرة بالجهاد بجامع الأسفار، والبعد عن الأوطان، ومفارقة الأهل، وخطر الأسفار، وتعب البدن، وبذل الأموال. وأخرج مسلم من حديث أنس «أن أم سليم اتخذت خنجرًا يوم حنين وقالت للنبي صلى الله عليه وسلم : اتخذته إن دنا مني أحد من المشركين بقرت بطنه» فهو يدل على جواز القتال وإن كان فيه ما يدل على أنها لا تقاتل إلا مدافعة، وليس فيه أنها تقصد العدو إلى صفه وطلب مبارزته.

  • الجهاد واجب: فهو إما فرض كفاية، أو فرض عين في حق الرجال في بعض الحالات.
  • لا يجب الجهاد على المرأة، وأن جهادهن الحج.
  • فضل الحج والعمرة، إذْ جعل ثوابهما كثواب الجهاد في سبيل الله -تعالى-.
  • فضيلة عائشة -رضي الله عنها- لأنَّ رغبتها في الخير والأعمال الصالحة جعلتها تريد منافسة الرجال فيما خصص لهم من أعمال.
  • أنَّ الله -تبارك وتعالى- لما خلق الصنفين من البشر، هيَّأ كل صنف منهما وأعده للعمل الذي يناسبه ويتحمله، لما في ذلك من المصالح العظيمة.
  • توزيع الأعمال بين خلقه، فكل منهم يقوم بجانب من الأعمال.
  • أنَّ الصنف الواحد إذا تخصَّص بعمل من الأعمال وحده أجاده وأتقنه، فجاء على المراد.
  • أن يكون كل صنف مطالبًا بما يخصه، وما هيّء له من الأعمال، وبهذا التوزيع العادل يكون إعمار الكون، وسير الأعمال ونجاحها.
  • حسن تعليم النبي -صلى الله عليه وسلم- وجمال إجابته، فهو لم ينفِ عن عائشة تشوفها واشتياقها إِلى فضيلة الجهاد في سبيل الله، وإنما دلَّها على جهاد من نوع آخر، يرضي طموحها ويُطَمْئِنُ قلبَها.
  • حكمة الإسلام في إبعاد المرأة عن مواطن يخشى عليها فيها كمواطن الحرب، خاصة مع كثرة العدو أوالخوف من فتنتها لجمالها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید