حدیث

ہمیں خیبر کے دن کھانے کی کچھ چیزیں حاصل ہوئیں، تو لوگ آتے اور اس میں سے اتنا لے کر چلے جاتے، جو ان کے لیے کافی ہو

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

اس حدیث کی سند صحیح ہے۔اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن أبي أوفى قال: قلت: "هل كنتم تُخَمِّسُون -يعني الطعام- في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ فقال: «أصبنا طعامًا يوم خَيبر، فكان الرجلُ يَجيء فَيَأخذُ مِنه مِقدارَ ما يَكفيه، ثم يَنْصَرِف».

ترجمہ

عبد اللہ بن ابو اوفی سے روایت ہے کہ ان سے (محمد بن ابو مجالد کے ذریعے) پوچھا گیا : کیا آپ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھانے کی چیزوں کا پانچواں حصہ نکالتے تھے؟ تو انھوں نے جواب دیا : ہمیں خیبر کے دن کھانے کی چیزیں حاصل ہوئیں، تو لوگ آتے اور اس میں سے اتنا لے کر چلے جاتے، جو ان کے لیے کافی ہو"۔

تشریح

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر مجاہد کو کھانے کی ضرورت ہو، تو وہ مال غنیمت میں حاصل شدہ کھانے کی چیزوں میں سے بقدر ضرورت کھا سکتا ہے، لیکن ذخیرہ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہ مال غنیمت کے اندر خیانت میں شمار ہوگا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ غنیمت کا مال تقسیم سے پہلے لینے سے اس وقت منع کیا گیا ہے، جب دوسرے مجاہد بھائیوں کا حق مار کر لے لیا جائے، لیکن اگر کھانا اور پھل وغیرہ سب لوگ بقدر ضرورت استعمال کے لیے لیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

تشریح: العربية

دل الحديث على أن المجاهد إذا احتاج إلى الأكل مما جمع من طعام الغنائم فله ذلك، دون أن يدّخِره، بل يأكل منه حاجته دون زيادة ثم ينصرف، أما ادخاره فهذا غلول، لكن الأكل منه بقدر الحاجة ليس بغلول، وإنما نُهي عن الأخذ من الغنيمة بحيث ينفرد به عن إخوانه المجاهدين، أما ما يشاركه فيه غيره من الطعام والفاكهة فلا حرج فيه.

  • جواز أخذ الطَّعام اليسير من المغنم قبل القسمة.
  • أنَّ أخذ هذه الأشياء ليس من الغلول المحرَّم المنهي عنه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید